Saturday, April 9, 2011

جمہوریت دینِ ابلیس

1 comments
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ کے ساتھ شرک کامظہر نظام ِجمہوریت
نظام ِ جمہوریت اللہ کے ساتھ شرک کا واضح مظہر ہے اور اس کے درج ذیل دلائل وشواہد ہیں۔
۱۔ جمہوریت
غیراللہ کا’’ بلادلیل ِشرعی ‘‘نظام ہونے کی بناپرنظام ِ شرک ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ!
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 21؀
کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
۴۲: ا لشوریٰ۔آیت نمبر ۲
آیت ِبالاسے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین(اصول ،قانون و نظامِ زندگی؍کتاب وسنت) کی بجائے غیراللہ کاایسااصول قانون ونظامِ زندگی اختیار کرناکہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہ ملتی ہو اس غیراللہ کو اللہ کا شریک بنانا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ نظام ِجمہوریت غیراللہ؍کفار کا وضع کردہ نظامِ سیاست ہے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہیں ملتی ہے۔
۲۔ جمہوریت
کو اللہ کے دیئے نظامِ سیاست ’’خلافت‘‘ کی
کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجود اختیارکرناجہالت ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُج وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿﴾
جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔ ( آلِ عمران۔آیت نمبر ۸۵ .3)
آیت اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ’’ اسلام کے دیئے ہوئے قانون ونظام کے سوا کوئی اور قانون ونظام اختیار کرنا‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول نہیں ہے۔ ’’اسلام‘‘ایک مکمل نظام ِ حیات ہے جس میں اخلاقیات ،روحانیت ،معاشرت ، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر معاملے کے حوالے سے قانون و نظام ملتا ہے ۔ اسلام میں اللہ نے اہل ِ ایمان کو ایک مکمل نظام ِ سیاست ’’ خلافت ‘‘ دیا ہے ۔ اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست’’ خلافت‘‘ کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست ’’جمہوریت ‘‘ اختیار کرنا جہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول بھی نہیں ہے وہیں اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست اختیار کرنا واضح طور پرشرک بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ مِّنْمبَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا اِنَّک اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْن ﴿﴾
اور اگر تم نے اس ’’علم ‘‘(کتاب وسنت )کے بعد ، جو تمہارے پاس آ چکا ہے ، ان کی اھواء کی پیروی کی تو یقینا تمہارا شمار ظالموں ( مشرکوں)میں ہو گا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۴۵
نظام ِجمہوریت اپنے وضع کرنے والوں (امریکہ، برطانیہ ، فرانس وغیرہ)کے لیے مقدس دین کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے اس دین کی ترویج و اشاعت میں و ہ صبح وشام لگے رہتے ہیں اور صرف اس سے راضی ہوتے ہیں جو ان کے اس دین کو اپنا لیتا ہے۔ پاکستان میں بحالی وترقی ِ جمہوریت کے لیے پاکستان کے عوام سے بھی بڑھ کر امریکہ، برطانیہ وغیرہ کا بے چین رہنااس کا زندہ ثبوت ہے اور ان کفار کے آئے روز اخبارات میں یہ بیان پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ہم نظام جمہوریت کو پوری دنیا میں قائم کریں گیں،
اللہ تعالیٰ بھی اہل ِ ایمان سے ارشاد فرماتا ہے کہ
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ط قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْھُدٰی ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿﴾
یہودی اورنصرانی تم سے ہر گز راضی نہ ہونگے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگر اس ’’علم‘‘(کتاب وسنت) کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی اھواء کی اتباع کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہ ہوگا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۲۰
۳۔ جمہوریت کے بنیادی اُصول ’’شرکیہ ‘‘ہیں
نظام ِجمہوریت کے بنیادی اُصول اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا واضح اظہار ہیں مثلاً:
پہلا اُصول ِ جمہوریت
ملک کے مالک عوام !
آمریت میں ’’فردِواحد ‘‘ملک کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے تو جمہوریت میں’’عوام ‘‘ملک کے مالک قرار دیے جاتے ہیں جب کہ ملک صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ اس نے اس ملکیت میں نہ کسی فرد واحد کو شریک کیا ہے اور نہ عوام کو ،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا Ą۝
وہی (اللہ ) کہ جس کے لیے ملکیت (بادشاہی) ہے آسمانوں اور زمین کی اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا نہ ہی ملکیت ِملک میں اس کاکوئی شریک ہے ،جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر تقدیر مقرر کی۔
۲۵: الفر قان۔آیت نمبر۲
اللہ پر ایمان کے بعد فرد یا افراد کو ملک کا مالک قرار دینا ان کو اللہ کا شریک بنانا ہے۔ اس سے مراد یہ نہ لی جائے کہ ایک انسان کو گھر، زمین وغیرہ کا مالک پھر کیوں کہا جاتا ہے تو بھائیوں یہاں بات نظام، قانون کی ہو رہی ہے نہ کے کسی کی جائیداد کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔
دوسرا اُصول ِ جمہوریت
اقتدار کا سرچشمہ عوام
جمہوریت میں اقتدار کا سر چشمہ عوام کو قرار دیا جاتا ہے جب کہ اﷲ تعالیٰ اقتدار کا سر چشمہ اپنی ذات کو قراد دیتا ہے جیساکہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26؀
کہوکہ اے اللہ! ملک کے ما لِک ! دیتا ہے تُو ملک (حکو مت ) جسے چاہتا ہے اور چھین لیتا ہے جس سے چاہتاہے ۔اور تُو عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تُوذلت دیتا ہے جسے چاہتا ہے،تیرے ہی ہاتھ میں خیر ہے اور تُو ہر چیز پر قادر ہے۔
۳ّ۔آل عمران ۔آیت نمبر۲۶
اللہ پر ایمان کے بعد عوام کو یا کسی اور کواقتدار کا سرچشمہ قرار دینا اﷲ کی صفت میں غیر اﷲکو شریک کرنا ہے ۔
عوام کو اقتدار کا سرچشمہ قرار دینے والوں کے ہاں اس سے مراد اگرصرف عوام کی پسند کا حکمران مقرر کرنا ہے تب بھی یہ اُصول شرک ہے کیونکہ اہل ِایمان کے حکمران کے لئے پسند کا بنیادی اختیاربھی اللہ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور حکمران کے تقررکے لئے شرائط اللہ نے خودطے کر دی ہیں اور اہل ِایمان کو اپنے معاملات مشورے سے طے کرنے کا بھی حکم دیا ہے یوں اللہ کی مقرر کردہ شرائط کی موجودگی میں تقرر ِحکمران کے لئے اہل ِایمان کا مشورہ شرائط ِخلافت سے مشروط ہوجاتا ہے نہ کہ انہیں اللہ کی شرائط سے بے نیاز رہتے ہوئے اپنی پسندکا حکمران مقرر کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔ اس کی تفصیل آگےجمہوریت اور شورائیت کے زمرے میں آئے گی ان شاءاللہ۔
تیسرا اُصول ِ جمہوریت
حکم، قانون اور فیصلے کا اختیار عوام کی اکثریت کے پاس
اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ
’’حکم ‘‘کا اختیار تو صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔
۱۲: یوسف۔آیت نمبر۴۰
مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ ۡ وَّلَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖٓ اَحَدًا 26؀
اُس کے سوا اُن کاکوئی ولی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔
۱۸: الکہف۔آیت نمبر ۲۶
حکم(حکم ، قانون اور فیصلے )کا اختیار صرف اللہ کے لیے خاص ہے جبکہ آمریت اللہ کی بجائے فردِ واحد کی اھواء سے اخذکردہ حکم ، قانون اور فیصلے کے نفاذ کا نام ہے اور جمہوریت اللہ کی بجائے اکثریت کی اھواء سے اخذ کردہ حکم ،قانون اور فیصلے کے نفاذ کا نام ہے اور یہ چیز ان دونوں نظاموں کے اللہ سے شرک وبغاوت کے علمبردار ہونے کی واضح دلیل ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اھواء فردِ ِواحد کی تمام افراد پر چلتی ہو یا اکثریت کی اقلیت پر یا اقلیت کی اکثریت پر ، کسی نہ کسی تعدا د میں بندوں پر بندوں کی حاکمیت کا ثبوت ہے جب کہ اللہ بندوں کو بندوں کی ہرطرح کی حاکمیت سے آزاد کرتاہے اوراور حاکمِ شرعی کو بھی یہ حکم دیتا ہے کہ
يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ 26؀ۧ
اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے پس تم حق کے ساتھ لوگوں کے مابین فیصلے کرو اوراھواء کی پیروی مت کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقینا اُن کے لئے شدید عذاب ہے،کہ وہ یومِ حساب کو بھول گئے ہیں۔
۳۸: ص۔آیت نمبر۲۶
جمہوریت میں حکم ، قانون اور فیصلے کا بنیادی اختیارانسانوں کی اکثریت کے پاس ہے جبکہ انسانوں کی اکثریت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿﴾
مگرانسانوں کی اکثر یت علم نہیں رکھتی۔ ۱۲: یوسف۔آیت نمبر۴۰
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر ہماری آیات سے غفلت برتتے ہیں۔
( یو نس۔آیت نمبر۹۲)
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ 49؀
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔
۵: المائد ہ ۔آیت نمبر ۴۹
بَلْ جَاۗءَهُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ 70؀وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ 71؀ۭ
بلکہ آیا ہے وہ(رسولﷺ)ان کے پاس حق لے کر اوران کی اکثریت ’’حق‘‘ کو ناپسند کرتی ہے۔اور اگر پیروی کرنے لگے’’ حق‘‘ ان کی خواہشات ِ نفس کی توفساد برپا ہو جائے آسمانوں میں اور زمین میں اور ان میں جو ان کے درمیان ہیں، بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس انہی کا ذکر اور وہ اپنے ہی ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
۲۳: المؤمنون۔آیات نمبر ۷۰،۷۱
وَاِنَّ كَثِيْرًا لَّيُضِلُّوْنَ بِاَهْوَاۗىِٕهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ ١١٩؁
اور حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ بغیر علم کے اپنی اھواء کی بنا پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بے شک تیرا رب ان حد سے گذرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
۶: الانعام۔آیت نمبر ۱۱۹
وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦؁
اور اُن میں سے اکثر اللہ پہ ایمان نہیں رکھتے مگر یوں کہ وہ شرک بھی کرتے ہیں۔
(۱۲: یوسف ۔۱۰۶)
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! حقیقت یہ ہے کہ علماء اورپیروں میں سے اکثر ،لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔
۹: التوبہ۔آیت ۳۴
وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦؁
اگر تم لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلوگے جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض ظن کی پیروی کرتے ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
۶: الانعام ۔آیت۱۱۶)
حکم ، قانون اورفیصلے کے لئے انسانوں کی اکثریت کی طرف رجوع کرنااور ان کی ا کثریت کے علمِ حقیقی سے جاہل، دین سے بے بہرہ اور فاسق ہونے کی بنا پران کی اکثریت کے فیصلے کو قانون کادرجہ دینا جاہلیت کے فیصلے کو قانون بنانے کے سواء اور کیاہو سکتا ہے، اور حالت یہ ہو تو جو لوگ بھی اس نظام کے تحت سلیکٹ ہوں گے ان کے بارے میں کیا امید کی جاسکتی ہے۝؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ 49؀اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 50۝ۧ
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔(اگر یہ اللہ کے فیصلے سے منہ موڑتے ہیں ) تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔
۵: المائد ہ ۔آیات :۴۹،۵۰)
شورائیت کے بہانے جمہوریت !
جمہوریت پسنددینی راہنماکہتے ہیں کہ جمہوریت تو حقیقت میں شورائیت ہے اور شورائیت کا حکم
قرآن میں ملتاہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ
وَ اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ص
اور ان (اہل ِ ایمان ) کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔
۴۲: الشوریٰ ۔آیت :۳۸)
ان دینی راہنماؤں کو پتہ ہونا چاہیے کہ قرآن میں شورائیت کا حکم ملتاہے تو ساتھ اس کا طریقہ بھی ملتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ
وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ ١٥٩؁
اور (اے نبی ﷺ)اِن سے مشورہ لیتے رہو معاملات میں، پھرجب تم پختہ فیصلہ کر لو تو پھر اللہ پر توکل کرو ۔
۳: آلِ عمران آیت: ۱۵۹
آیت سے شورائیت کا طریقہ واضح ہوتا ہے جس کے مطابق اس میں دو فریق ہوتے ہیں : مشورہ دینے والے اور مشورہ لے کر فیصلہ کرنے والا۔ آیت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ فیصلہ کرنے والامشورہ لینے کے باوجوداپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔
نبی ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا کرتے تھے لیکن فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتے تھے نہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے مشورے کے لازماًپابند ہوتے تھے۔ آپ ﷺ مشورہ لینے کے بعدفیصلہ کرتے ہوئے حا لات کی نزاکت کو بھی دیکھتے تھے اوراللہ کے حکم کو بھی اور اللہ کے حکم کو ہر بات پرمقدم رکھتے تھے، آپﷺ مناسب سمجھتے تو مشورہ قبول بھی فرما لیتے تھے چاہے ایک ہی فردکی طرف سے مشورہ ملتا ، چند کی طرف سے یا اکثریت کی طرف سے اور مشورہ چھوڑنامناسب سمجھتے تو چھوڑ بھی دیتے تھے مثلاً نبی ﷺ نے غروہ ِبدر میں ایک صحابی حباب بن منذررضی اللہ عنہ کے مشورے سے لشکر ِ مجاہدین کے پڑاؤ کی جگہ تبدیلی کی، اُحد میں جب بعض صحابہ نے مدینہ سے باہر نکل کرلڑنے کے حوالے سے شدید خواہش اورجوش وخروش کا مظاہرہ کیا تو آپ نے اپنی رائے کے برعکس باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ کرلیا مگربعد میں صحابہ نے محسوس کیا کہ باہر نکل کر لڑنے کی خواہش کے اظہارکے حوالے سے اُن سے زیادتی ہوئی ہے تو انہوں نے تقریباً متفقہ طور پراس سے دستبرداری کا اظہار کردیا مگراب آپﷺ نے باہر نکل کر لڑنے کا اپنا فیصلہ تبدیل نہ کیا اور فرمایا کہ
کوئی نبی جب اپنا ہتھیار پہن لے تو مناسب نہیں کہ اُسے اتارے تاآنکہ اللہ اس کے درمیان اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ فرما دے ۔ احمد
شورائیت میں فیصلہ کرنے والے کے پاس لوگوں کا مشورہ آتا ہے نہ کہ فیصلہ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشورہ تب تک ہی مشورہ ہے جب تک چھوڑا بھی جا سکتا ہو، جب وہ چھوڑا نہ جاسکتا ہواوراُسے ماننا لازم ہو تو پھر وہ مشورہ نہیں ہوتا بلکہ فیصلہ ہوتا ہے ۔
جمہوریت میں ’’عوام‘‘ کے ووٹوں کے ذریعے فیصلہ سامنے آتا ہے نہ کہ مشورہ کیونکہ عوام کے ووٹوں کی اکثریت جس بات کے ساتھ ہو اُسے ماننا لازم ہوتاہے، اسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، اسکانفاذ لازم ہوتا، چاہے یہ فیصلہ حالات کی نزاکت کے خلاف ہو ، فطرتِ انسانی کے خلاف ہو یااللہ کے حکم کے خلاف ہو۔ یوں بھی عوام کے ووٹوں کی اکثریت جوبات کہہ رہی ہواُسے ’’عوام کا فیصلہ‘‘ ہی کہا جاتا ہے نہ کہ ’’عوام کامشورہ‘‘۔ جمہوریت میں دو گنواروں کے ووٹ مل کر پروفیسرکے ایک ووٹ پر بھاری ہوتے ہیں، دوچرسیوں؍پوڈریوں کے ووٹ مل کر ڈاکٹر کے ایک ووٹ پر بھاری ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن کا کام صرف عوام کے ووٹوں کے ذریعے آنے والے اکثریتی فیصلے (جاہلیت کے فیصلے )کو اقلیتی فیصلے سے الگ کرکے دکھانا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دینی راہنماء اسلام کے نظام ِ’’شورائیت ‘‘ کے بہانے جمہوریت کو اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ شورائیت اور جمہوریت میں زمین وآسمان کافرق صاف نظر آتا ہے ۔
٭ جمہوریت پسند دینی راہنما جمہوریت اختیار کرنے کے لیے دلیل کے طور پرعثمان رضی اللہ عنہ کے بحیثیت خلیفہ تقرر کا واقعہ پیش کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عام لوگوں میں چل پھر کر یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کو بحیثیت خلیفہ پسند کرتے ہیں یا علی رضی اللہ عنہ کو؟ ان راہنماؤں کے بقول اُس وقت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کی گئی تھی اور جمہوریت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اس لیے اسے اختیار کرنے میں کیا حرج ہے۔
اس حوالے سے گذارش ہے کہ بات اگر رائے معلوم کرنے ہی کی ہو تب بھی اسلام میں رائے کی حیثیت واضح ہے، وہ فیصلہ کرنے والے کے لئے ہوتی ہے اور فیصلہ کرنے والے کی طرف سے لوگوں کی رائے اختیار کی بھی جاسکتی ہے اور چھوڑی بھی جاسکتی ہے ، لوگوں کی رائے جب واجب الاطاعت قرارپائے تو وہ رائے نہیں رہتی ’’ حقیقت میں فیصلہ قرار پاتی ہے ‘‘ اگرچہ اسے رائے کانام دیاجاتارہے۔ جمہوریت میں ’’اکثریتی رائے‘‘ کسی فیصلہ کرنے والے کے لئے (فیصلہ کرنے کے لئے) نہیں ہوتی بلکہ الیکشن کمیشن سمیت سب کے لئے واجب الاطاعت ہوتی ہے اس لئے وہ واضح طور پر فیصلہ ہوتی ہے نہ کہ رائے۔
چوتھا اُصول ِ جمہوریت: حکومت کی حرص
جمہوریت کا ایک اور اُصول حکومت کی حرص میں مبتلا ہونا ہے کیونکہ اس کے بغیر جمہوریت کی چکی چل ہی نہیں سکتی، حکومت کے حریص ایک دوسرے کے مقابل میدان میں اُتریں گے تب ہی لوگ اکثریتی فیصلے سے کسی ایک کو منتخب کریں گے۔ حکومت کی حرص میں مبتلا ہونے والے عام طور پرجذبہ ِ خدمت کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں اس کے برعکس اسلام میں ’’کسی کی طرف سے حکومت مانگنا اور اس کی حرص کرنا حرام ہے اورجس میں یہ چیز موجودہوتویہ حکومت کے لئے اُس کی نا اہلیت قرار پاتی ہے جیسا کہ نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ
ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے دو چچا زاد بھائیوں کے ساتھ نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا ان میں سے ایک بولا اے اللہ کے رسول ﷺہمیں کسی ملک کی حکومت دے دیجئے ان ملکوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دئیے ہیں اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم نہیں دیتے اس شخص کو جو اس کو مانگے اور نہ اس کو جو اس کی حرص کرے۔
(مسلم:کتاب الامارۃ۔)
تم لوگوں کو معدن (معدنی کان سے نکلی ہوئی چیز) کی مانند پاؤ گے جو جاہلیت میں اچھا ہوتا ہے وہی اسلام میں بھی اچھا ہوتا ہے جب وہ دین کی سمجھ پیدا کرلے اور تم اس امر(خلافت) کے لیے وہی آدمی زیادہ موزوں پاؤ گے جو اس کو بہت بری چیز خیال کرے تا آنکہ ایسا شخص اس (خلافت)میں مبتلا کردیاجائے۔
مسلم:کتاب فضائل الصحابۃؓ
کلمہ پڑھنے والے کے لئے مانگنے کی بنا پر ملنے والی حکومت دنیا میں بھی اللہ کی مدد سے محروم رہتی ہے اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنتی ہے۔
جیسا کہ نبی ﷺ کے ا رشادات ہیں کہ!
لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُّ کِلْتَ اَلِیْھَا وَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلِیْھَا
حکومت مت مانگوکیونکہ اگر یہ تجھے مانگنے پرملی تو تم (بے یارومددگار) اسی کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر بغیر مانگے ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائیگی۔
مسلم : کتاب الامارۃ۔عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ
اِنَّکُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَی الْاِمَارَۃِ وَسَتَکُوْنَ نِِدَامَۃً یَوْمَ الْقیَامَۃِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ
عنقریب تم حکومت کی خواہش کرو گے اور وہ قیامت کے دن باعثِ ندامت ہوگی پس وہ اچھی دودھ پلانے والی ہے اور بری دودھ چھڑانے والی ہے۔
بخاری: کتاب الاحکام۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
طلب کرنے کی بنا پر ملنے والی حکومت کے اللہ کی مدد سے محروم رہنے کے حوالے سے نبی ﷺ کا ارشاد کتنا حقیقت پر مبنی ہے اس کا ثبوت دنیا بھر میں کلمہ پڑھنے والوں کی ہر جمہوری حکومت کی مکمل ناکامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے اس سے آخرت کی سزا کے حوالے سے آپ ﷺکے ارشاد کی سچائی کااندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
طلب ِحکومت اگر چہ عام گنا ہ ہے لیکن جب ایسا غیر اللہ کے نظام’’جمہوریت‘‘ کی اتباع میں کیا جاتاہے تو پھر شرک کا عظیم گناہ بن جاتاہے پھر طلبِ حکومت کے گناہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے لوگوں کی نظر میں بڑا ثابت ہونا ضروری ہو جاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنی پارسائی اور خدمات کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جائے جب کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ
فَلَا تُزَکُّوْآ اَنْفُسَکُمْ ط ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی
اپنی پارسائی کے دعوے مت کیا کرو، وہی جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔
۵۳: النجم۔آیت :۳۲
پھر پارسائی اور خدمات ،ڈھنڈورے کے ذریعے جب لوگوں کے دکھاوے (ریاکاری) کی بھینٹ چڑھتی ہیں تو دین میں شرک ِ ا صغرقرار پاتی ہیں جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّ اَخَوِّفُ مَا اَخَافُ عَلَیکُمُ الشِّرْکُ الْا َ صْغَرُ قَالُوْا وَمَاالشِّرْکُ
الْا َ صْغَرُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ الرِّیَآءُ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ لَھُمْ یَوْمَ
الْقیَامَۃِ اِذَا جُزِیَ النَّاسُ بِاَعْمَالِھِمْ اِذْھَبُوْا اِلَی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ
تُرَاءُ وْنَ فِی الدُّنْیَا فَانْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَھُمْ جَزَاءً
مجھے تمہارے اوپر اصل خوف شرک اصغر کا خوف ہے ، پوچھا کہ اے اللہ کے رسول شرک ِاصغر کیا ہے ؟ فرمایا ’’ریا‘‘ ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دینے لگے گا تو ان(ریا کرنے والوں) سے کہے گا جاؤ اُن کے پاس کہ جن کے لئے تم دنیا میں ریا کیا کرتے تھے اور دیکھو کہ اُن سے تم کوئی جزا پا سکتے ہو؟
احمد: باقی مسندالانصار۔ محمود بن لبیدرضی اللہ عنہ
پانچواں اُصول ِ جمہوریت:پارٹی بازی
طاغوتوں کی یہ پرانی عادت رہی ہے کہ وہ لوگوں کو پارٹیوں گروہوں میں تقسیم کرکے رکھتے ہیں جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا
حقیقت یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا تھا۔
۲۸::القصص۔آیت:۴
جمہوریت سازطاغوتوں نے اصول ِجمہوریت وضع کرتے ہوئے اسی فرعونی روش کا اعادہ کیا ہے اور پارٹی بازی کو جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل کیا ہے۔ جمہوریت میں حکومت و اقتدار کے حریصوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ پارٹیوں میں تقسیم ہو جائیں، انہیں طاغوت کے پاس رجسٹر کرائیں اور اقتدار کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں ۔طاغوت لوگوں کو پارٹی بنانے اور انہیں اپنے پاس رجسٹرڈکروانے کی دعوت دیتے ہیں۔کلمہ پڑھنے والے جب طاغوتوں کی اطاعت میں پارٹیاں بناتے ہیں، انہیں طاغوت کے پاس رجسٹرڈ کرواتے ہیں اور اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں توایک طرف تو وہ طاغوت کی اطاعت کی بنا پرجہالت میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور دوسری طرف پارٹی بازی کی بنا پر اُمت کی وحدت کو پاراپارا کر دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرما چکا ہے کہ
وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ﴿﴾لا مِنَ ا لَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَھُمْ و کَا نُوْا شِیَعًاط
کُلُّ حِزْبٍم بِمَالَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ﴿﴾
اور نہ ہو جاؤ مشرکین میں سے، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین میں تفرق اختیار کیا اور گروہوں میں بٹ گئے۔ اب جس گر وہ کے پاس
جو کچھ ہے اسی پر و ہ اِترا رہا ہے۔
۳۰::الروم۔آیات :۳۱،۳۲
٭پاکستان میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین ۷۳ء میں شامل قراردادِمقاصد میں درج ذیل پیرے کی موجودگی میں جمہوریت کے اصولوں کی وہی تشریح اختیار کی جائے گی جو اسلام نے بیان کی ہے اس لئے اس تشریح کے ساتھ جمہوریت اختیار کرنے میں کیا حرج ہے؟
قرارداد کامذکورہ پیرایوں ہے کہ
’’جمہوریت،آزادی ، مساوات ، رواداری اور عدل ِ عمرانی کے اصولوں کی،
اسلام کی بیان کردہ تشریح کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔‘‘
اسلام نے جمہوریت کے اصولوں کی کیا تشریح کی ہے اس کے حوالے سے گزارش ہے کہ جو نظام غیر اللہ نے وضع کیا ہو اس کے اصولوں کی تشریح بھی غیر اللہ ہی کی طرف سے آیاکرتی ہے ۔مثلاً پارلیمانی و صدارتی نظامِ جمہوریت کے اصول اور ان کی تشریح برطانیہ ، امریکہ اور فرانس سے ہی ملے گی نہ کہ اسلام سے۔ اسلام سے تو، جمہوریت کے غیراللہ کا، اللہ کے دین کی دلیلوں سے عاری اوراللہ کے دین کی دلیلوں کے مقابل نظام‘‘ ہونے وغیرہ کی بناپر، اسے اختیار کرنے اور نہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ آئے گا جو کتاب و سنت کی روشنی میں یہی ہے کہ ’’اللہ کی بجائے غیر اللہ کا اور اللہ کے دین کے مقابل ومتضاد نظام ہونے اور اللہ کی بجائے اکثریت کو اختیارِ قانون سازی تفویض کرنے سمیت اپنے وجودمیں اللہ کے ساتھ شرک کی دیگر صورتیں سمیٹے ہونے کی بناء پر جمہوریت اختیار کرنا شرک ہے ‘‘۔
٭ دینی راہنماؤں میں سے جو لوگ جمہوریت اختیار کرتے اور اس کے ذریعے اقتدار میں آکر دین قائم کرنا چاہتے ہیں وہ اس کے لیے دلیل کے طور پرعثمان رضی اللہ عنہ کے بحیثیت خلیفہ تقرر کا واقعہ پیش کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عام لوگوں میں چل پھر کر یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کو بحیثیت خلیفہ پسند کرتے ہیں یا علی رضی اللہ عنہ کو؟ ان راہنماؤں کے بقول اُس وقت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کی گئی تھی اور جمہوریت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اس لیے اسے اختیار کرنے میں کیا حرج ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ رہنما یہ بھول جاتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کوجانے والے خلیفہ(امام ِشرعی)نے دیگر افراد کے ساتھ نامزد کیا تھا کہ آئندہ خلیفہ ان میں سے مقرر کیا جائے۔ وہ خود خلافت کے طلب گارنہ تھے نہ انہوں نے حصولِ خلافت کے لیے پارٹی بنائی تھی،نہ اس کے حصول کے لیے رائے عامہ ہموار کی تھی نہ اس کے لیے اپنی پارسائی کے دعوے کئے تھے، نہ اپنی خدمات کے ڈھنڈورے پیٹے تھے جب کہ جمہوریت میں درج بالا تمام حرام کام کرنے پڑتے ہیں۔
٭ بعض جمہوریت پسند دینی رہنماء کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ کی پابندی کرنے سے جمہوریت پاک ہو کر اسلامی ہو جائے گی ۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ جب جمہوریت ہے ہی مجسم شرک تو یہ شرک نیک لوگوں کے اختیار کرنے سے اسلامی کیسے ہوجائے گا؟ مسلمانوں جیسا پردہ کرنے سے جیسے کوئی یہودن مسلمان نہیں ہوسکتی ‘ اسی طرح آرٹیکل ۶۲ اور۶۳ کا لبادہ اوڑھنے سے جمہوریت کا شرک بھی اسلامی نہیں ہوسکتا۔
٭ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم مغربی جمہوریت کے نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں گذارش ہے کہ اسلام کا مطلب تو ہے ’’غیراللہ کی اطاعت چھوڑکرصرف اللہ کی اطاعت‘‘ اور جمہوریت لوگوں کی اکثریت کی اطاعت کانام ہے اب اسلامی جمہوریت کے قائلین ذرا لوگوں کی اکثریت کی اطاعت (جمہوریت)کو صرف اللہ کی اطاعت (اسلامی) بنا کر بتائیں!․․․․․یقینا نہیں بنا سکیں گے تو وہ جان لیں کہ جیسے’’ اسلامی یہودیت ‘‘ یا ’’ اسلامی کیمونیزم ‘‘ کی اصطلاح کو حماقت کی دلیل سمجھا جائے گا اسی طرح’’ اسلامی جمہوریت‘‘ کی اصطلاح حماقت کی اعلیٰ ترین دلیل ہے۔
اکثریت کی اھواء
سے آئین و قانون سازی
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط یَقُصُّ الْحَقَّ وَھُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ﴿﴾
حکم کا اختیار تو صرف اللہ کے لئے خاص ہے، وہ ہی حق بات بیان کرتا ہے اور وہ ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
((۶::الانعام۔آیت نمبر ۵۷
اللہ تعالیٰ نے حکم، قانون اور فیصلے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہوا ہے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ بندوں کے لئے حقیقت پر مبنی حکم ،قانون اور فیصلہ اللہ ہی جاری کر سکتا ہے کیونکہ بندوں کا خالق اور اُن کا ربِّ حقیقی ہونے کی بنا پر و ہی بہتر جان سکتا ہے کہ بندوں کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ۔
اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ﴿﴾
کیا وہ ہی نہ جانے گا جس نے تخلیق کیا ہے؟ حالانکہ باریک بین اور باخبر تو وہ ہی ہے۔
(الملک۔آیت: ۱۴::۶۷
اللہ تعالیٰ نے کتاب و سنت کی صورت میں مبنی بر حقیقت حکم ، قانون اور فیصلہ نازل کردیاہے جو بندوں کے لئے دستورِ زندگی اورآئین کی حیثیت رکھتا ہے اور بندوں کو حکم دیا ہے کہ
فَا حْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآاَ نْزَلَ اللَّہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَ ھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ ط
تم اللہ کے نازل کردہ کے ساتھ ان کے مابین فیصلے کرو اور ان کی اھواء کی پیروی مت کرو، اس حق سے منہ موڑ کے جو تمہارے پاس آچکا ہے۔
۵: المائدہ۔آیت نمبر۴۸
اللہ کی طرف سے دستور ِزندگی اور آئین (کتاب و سنت )آ جانے کے بعد اسے نافذ کرنے اور اس سے دلیل لیتے ہوئے معاملات زندگی میں فیصلے کرنے کے سوا مزید آئین وقانون سازی کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی لیکن کلمات ِشہادت ادا کرنے والوں میں اللہ کے نازل کردہ آئین ودستورِزندگی کی موجودگی کے باوجودنہ صرف نئے قوانین کی بلکہ آئین (مملکت کے اصول ِاساسی کی دستاویز)کی بھی ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور آئین سازی اور قانون سازی کا مکمل اختیار(اگر کوئی جرنیل آکر چھین نہ لے اور اپنے تِھنک ٹینک کے سپرد نہ کر دے تو)پارلیمنٹ کو حاصل رہتا ہے جیسا کہ پاکستان میں ہے۔
پاکستان میں آئین کا دم بھرنے والے جمہوریت پسند دینی راہنماء پارلیمنٹ کے اختیارِ قانون سازی کے حوالے سے یہ بات فخریہ کہتے ہیں کہ ممبران ِ پارلیمنٹ کا اختیارِ قانون سازی تو آئین کے تابع ہے اورآئین میں درج ذیل شقیں آ جانے سے ممبران کا اختیارِ قانون سازی محدود ہو گیا ہے ،وہ بنیادی طور پر کتاب و سنت ہی کے مطابق قانون سازی کے پابند ہیں البتہ وہ اپنی رائے (اھواء)سے قانون جاری کرنے کا اختیارصرف وہاں استعمال کرسکتے ہیں جہاں کتاب و سنت سے کوئی راہنمائی نہ ملتی ہو۔آئین کی وہ شقیں یوں ہیں
شق ۲(ا) : چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکتِ غیرے حاکمِ مطلق
ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدودکے
اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے۔
شق۲۲۷(۱): تمام موجودہ قوانین کو قر آ ن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے
مطابق بنایا جائے گا جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام ذکر کیاگیا ہے
اور کوئی ایسا قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکو رہ احکام کے منافی ہو۔
جمہوریت پسنددینی راہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئین کی مذکورہ بالا شقوں کے تابع قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا معاملہ تو اس قانون سازی کے حوالے سے ہے جو آئین کے علاوہ ہے مگرخودوہ آئین جواللہ کے آئین کی موجودگی کے باوجودگھڑا گیا ہے اس کی قانون سازی (جسے آئین میں ترمیم کا نام دیا جاتا ہے )وہ کس کے تابع ہے ،دینی رہنما آئین کی درج ذیل شق سے وہ بھی دیکھ لیں
شق ۲۳۹(۵):
آئین میں کسی ترمیم پر کسی عدالت میں کسی بنا پر چاہے جو کچھ بھی ہو
اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
(۶)
ازالہ ِشک کے لیے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ آئین کے احکام
میں سے کسی ترمیم کے مجلس ِشوریٰ ( پارلیمنٹ) کے کسی بھی اختیار پر
کوئی پابندی نہیں۔
٭ آئین کی درج بالاشق کے دونوں پیروں سے ایک یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آئین ۷۳ء اختلافات سے پُر اور ناقص ہے اسی بنا پر اس میں ترمیم کی ضرورت رہتی ہے اور غیراللہ کے وضع کردہ آئین اوراپنی طرف سے نازل کردہ آئین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا 82؀
کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ غیراللہ کی طرف سے ہوتا تو یہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔
۴::النساء۔آیت:۸۲
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ١١٥؁
کامل ہے تیرے رب کی بات(کتاب و سنت) سچائی اور انصاف کے اعتبار سے،کو ئی اس کی بات کو تبدیل کرنے والا نہیں اور سب کچھ سننے اور جاننے والا وہی ہے۔
۶: الانعام ۔آیت: ۱۱۵
٭ آئین کی شق ۲۔الف اورشق۲۲۷(۱) کے تحت ممبرانِ پارلیمنٹ کی طرف سے قانون سازی(بقول دینی راہنماؤں کے) قرآن و سنت کے مطابق ہوگی مگراِن راہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ خود آئین تو پھر بھی ممبران ِپارلیمنٹ کے اختیار ِ ترمیم کی زد میں رہے گا جس کی بنا پر وہ جب چاہیں شق ۲۔الف اورشق۲۲۷(۱) کو اُٹھا کر آئین ہی سے باہر پھینک سکیں گے اورآئین کے پاسدار دینی راہنما پھر کہیں اعتراض بھی نہ کر سکیں گے کیونکہ اس حوالے سے ان کے محبوب آئین کی اوپر بیان کردہ شق ۲۳۹(۵) اور(۶) خوب واضح کی گئی ہے۔ لیکن یہ طاغوت کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پھر یہ اسلامی رہنماۗۗوں کو دھوکہ کیسے دیں گیں۝۝؟
اپنی اس بات کے جوازمیں کہ ’’عوام کے نمائندے اپنی طرف سے قانون جاری کرنے کا اختیاروہاں استعمال کر یں گے جہاں کتاب و سنت سے کوئی رہنمائی نہ ملتی ہو‘‘ وہ دینی راہنمادرج ذیل حدیث پیش کرتے ہیں کہ
اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا اَرَادَ اَنْ یَّبْعَثَ مُعَاذًااِلَی الْیَمْنِ قَالَ کَیْفَ تَقْضِیْ اِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَاءٌ قَالَ اَقْضِی بِکِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَلَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ قَالَ اَجْتَھِدْ بِرَاْیِیْ وَلَا آلُو فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَدْرَہُ وَ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ مَا یُرْضِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ
جب رسول ُاللہ ﷺ نے معاذ بن جبل کو یمن روانہ فرمانے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ نے اُن سے پوچھا کہ جب تمہارے پاس کوئی معاملہ آئے تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ کتاب ُاللہ سے فیصلہ کروں گا ۔ آپ ﷺ نے پوچھا اگر تم کتابُ اللہ میں نہ پاؤ تو ؟ انہوں نے عرض کیا ’’پھر سنت ِرسول ُاللہ کے ساتھ !‘‘ آپ نے پوچھا اگر تم سنت ِ رسول ُ اللہ میں بھی نہ پاؤ اور نہ کتابُ اللہ میں تو؟ توانہوں نے عرض کیا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گااور کوتاہی نہ کروں گا۔پس رسول ُاللہﷺ نے اُن کے سینے پر ہاتھ مارااورکہا کہ سب تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے فرستادے کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہے۔
(ابو داوٗد: کتاب ُالقضاء۔ اصحابِ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ)
حدیث ِبالا کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے ایک راوی حارث بن عمرو کو امام بخاری رحمۃاللہ علیہ سمیت دیگر چوٹی کے محدثین ضعیف قرار دے چکے ہیں یوں یہ ضعیف ترین حدیثوں میں سے ایک ہے ، رہی کسی معاملے میں کتاب و سنت سے راہنمائی نہ ملنے کی بات تو ان کے مکمل اور ہر ایک چیز کی وضاحت کے حامل ہونے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے ارشادات بہت واضح ہیں کہ
اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ
آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پرپسند کر لیا۔
۵: المائدہ۔آیت: ۳
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ 89؀ۧ
اور نازل کی ہے ہم نے تم پر یہ کتاب جو وضاحت کرنے والی ہے ہر ایک بات کی اور ہدایت ورحمت اور بشارت ہے اطاعت کرنے والو ں کے لئے۔
۱۶: النحل۔آیت:۸۹
آیاتِ بالا کی بنا پر کتاب و سنت میں راہنمائی نہ ہونے کی بات قطعی ناممکن ثابت ہوتی ہے ہاں البتہ ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی ڈھونڈنے والا ایک وقت میں کسی معاملے کے حوالے سے کتاب و سنت سے رہنمائی ڈھونڈ نہ سکا ہو ۔ایسی صورت میں اس کے لیے حکم ہے کہ وہ اہل ِ ذکر یعنی کتاب و سنت کے علماء سے پوچھ لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ
فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 43؀ۙ
پس اہل ِ ذکر سے پوچھ لو اگر تمہیں پتہ نہ چلے تو۔
۱۶: النحل۔آیت:۴۳
یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ خصوصی طور پر’’ اہل ِذکر‘‘ کی طرف رجوع کرنے کا مقصد ہی یہ سامنے آتا ہے کہ اہل ِذکر اُس معاملے کے حوالے سے ’’ذکر‘‘ یعنی کتاب و سنت سے اللہ کے احکامات نکال کر بتائیں جس کا وہ علم رکھتے ہیں نہ کہ اپنی اھواء سے بتائیں اوراپنی پیش کی ہوئی بات کے لئے بھی کتاب وسنت سے دلیل پیش کریں کیونکہ اللہ کی طرف سے یہ ذکر نازل ہی اس لئے ہوا ہے کہ صرف اس کی اتباع کی جائے اور اس سے دلیل پیش کرتے ہوئے بات کی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ ۚ ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ 24؀وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25؀
کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں۔ کہو لاؤ اپنی دلیل، یہ ذکر ہے(دلیل کی خاطر) اُن لوگوں کے لئے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کے لئے بھی جو مجھ سے پہلے تھے مگر ان میں سے اکثر بے خبر ہیں اور حق سے منہ موڑتے ہیں۔ اور ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول بھیجا اُس کی طرف یہی وحی بھیجتے رہے کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں سو میری ہی عبادت کرو۔
۲۱: الانبیاء۔آیات: ۲۴،۲۵
لیکن کتاب و سنت سے راہنمائی خود ڈھونڈنا تو دور کی بات ہے یہ راہنمائی لینے کے لئے اہل ِذکر کی طرف بھی رجوع نہیں کرتے بلکہ انسانوں کی اکثریت کی طرف رجوع کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی رائے سے بتائیں اور انسانوں کی ا کثریت کے علمِ حقیقی سے جاہل، دین سے بے بہرہ اور فاسق ہونے کی بنا پر جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنے کے سواء اور کیاہو سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ 49؀اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 50۝ۧ
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔(اگر یہ اللہ کے فیصلے سے منہ موڑتے ہیں ) تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔
۵: المائد ہ ۔آیات:۴۹،۵۰
اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا ۭوَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ١١٤؁وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ١١٥؁وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦؁
کہو ) تو کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف یہ ’’کتاب ‘‘پوری تفصیل کے ساتھ نازل کی ہے اور جن کو ہم نے یہ کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے سو تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا ۔ کامل ہے تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے،کو ئی اس کی بات کو تبدیل کرنے والا نہیں اور سب کچھ سننے اور جاننے والا وہی ہے۔اگر تم لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلوگے جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض ظن کی پیروی کرتے ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
۫ الانعام ۔آیات:۱۱۴․․۱۱۶
اللہ کامفصل ،جامع وکا مل اور واضح آئین ودستور ِزندگی آ جانے کے بعد اسے نافذ کرنے اور اس کی دلیلوں کے ساتھ فیصلے کرنے کے سوا مزید آئین وقانون سازی کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی تو جو ایسا کرتا ہے وہ لامحالہ ظن وگمان؍اھواء ہی کی بنا پر کرتا ہے یوں وہ خواہ مخواہ اللہ کی جگہ لوگوں کا راہنماء(اللہ کا شریک) بن بیٹھتاہے جبکہ پاکستان میں ممبران ِ اسمبلی کی اکثریت کے اھواء پر مبنی فیصلوں کو قانون کادرجہ دیا جاتا ہے اورجو لوگ ان کے اھواء کے فیصلوں اور قوانین کی اتباع کرتے ہیں تووہ انہیں اللہ کا شریک بنانے ہی کے مرتکب ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ ۭ قُلِ اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ ۭ اَفَمَنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْٓ اِلَّآ اَنْ يُّهْدٰى ۚ فَمَا لَكُمْ ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ 35؀وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ 36؀
کہو! کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہو ؟کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے پھر بھلا بتاؤ جو(اللہ) حق کی طرف راہنمائی کرتاہے وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے یا کہ اُس کی(اتباع کی جائے) جوخود راہ نہیں پاتا اِلَّا یہ کہ اس کی راہنمائی کی جائے ؟ آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسے اُلٹے فیصلے کرتے ہو ۔حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثرلوگ محض ظن کے پیچھے چلے جا رہے ہیں حالانکہ ظن حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کرتا ۔جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے ۔
۱۰: یونس۔آیات: ۳۵،۳۶
٭انسانوں کے وضع کردہ آئین کے جواز کے سلسلے میں بعض لوگ میثاق ِمدینہ کی مثال پیش کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ میثاق ِمدینہ مسلمین اور کفار کے درمیان ایک معاہدہ تھااور اس میں ہر متنازعہ معاملے میں آخری فیصلے کا اختیار نبی ﷺ کے پاس تھایوں یہ میثاق کفار سے ایسے معاہدے ہی کے لئے دلیل بنتا ہے جوکتاب و سنت کے تحت ہو جبکہ آئین ۷۳ء مسلمین اور کفار کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں بلکہ مسلمان کہلانے والے لوگوں کااپنے لئے اختیار کردہ آئین ہے جس میں کفار کی حیثیت اقلیت کی ہے مگر اس میں آخری فیصلے کا اختیار نبی ﷺ(کتاب وسنت) کی بجائے پاکستان کی سپریم کورٹ کو حاصل ہے اوریہ کورٹ آئین کے حوالے سے فیصلہ دینے کے لئے نبیﷺ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اپنی اھواء کی طرف رجوع کرتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀
سوقسم ہے تیرے رب کی(اے نبی ﷺ) ! یہ مومن ہو ہی نہیں سکتے جب تک یہ آپس کے اختلافات میں تمہیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ فیصلہ تم کرو اسے دل میں ذرا سی بھی تنگی محسوس کئے بغیر سر بہ سر تسلیم نہ کر لیں۔
۴: النساء۔آیت:۶۵
اللہ کے نازل کردہ آئین کی موجودگی کے باوجود انسانوں کے وضع کردہ آئین کی موجودگی ضروری سمجھنے والے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کتاب و سنت پربہترین عمل کرنے والے لوگوں یعنی خلفائے راشدین نے بغیر کسی نئی آئین و قانون سازی کے صرف اللہ کے نازل کردہ آئین کے تحت فیصلے کرتے ہوئے ایسا بہترین نظام ِ حکومت چلا یا کہ دنیا آج تک اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔اس بنا پر یہ کہنا تو قطعی بے جا ثابت ہوتاہے کہ نیا آئین اورنئے قوانین وضع کئے بغیر نظام ِحکومت چلایا نہیں جا سکتا۔

طاغوتی آ ئین و
قوانین کی پاسداری کے حلف
کلماتِ شہادت اداکرنے والوں میں سے اکثر حکمران اور دیگرسیاست دان طاغوتوں کے وضع کردہ چارٹرز(مثلاًاقوام متحدہ کے چارٹر)،ان کے وضع کردہ ملکی آئین،دساتیر اورقوانین (مثلاً پاکستان میں آئین ۷۳ء،اوروفاقی وصوبائی قوانین کی فہرستوں)کی پاسداری کے حلف اٹھاتے ہیں ، ان حلفوں پر دستخط کرتے ہیں(پھر معاملات ِ زندگی انہی کے مطابق چلاتے ہیں) یوں اللہ کے ساتھ کئے گئے شرک و بغاوت کی پاسداری کا حلف اٹھالیتے ہیں۔
مذکورہ بالا حلف اُٹھانے والوں میں سے جو لوگ دین سے بے بہرہ ہیں ان کا معاملہ تو الگ ہے لیکن پارلیمنٹ میں پہنچنے والے جمہوری مذہبی سیاست دان بھی طاغوتی آئین و قوانین کی پاسداری کا حلف اُٹھاتے اوران کی اطاعت وپیروی پر کاربندہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ایسااقامت ِدین کے لئے کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ 25؀ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ 26؀فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ 27؀ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَـــطَ اللّٰهَ وَكَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَــطَ اَعْمَالَهُمْ 28؀ۧ
بے شک جولوگ ہدایت واضح ہو نے کے بعداُلٹے پھر گئے ، شیطان نے ان کے لیے یہ کام آسان بنا دیا اور ان کے لیے جھوٹی توقعات کا سلسلہ دراز کر دیا ۔ یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے کہا تھا ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے نازل کردہ کو ناپسند کیا ہے کہ ہم بعض معاملات میں تمہاری مانیں گے ، اللہ ان کی خفیہ باتیں خوب جانتا ہے ۔ پھراس وقت کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے ان کی روحیں قبض کریں گے ۔ یہ اس لیے ہو گا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور انہوں نے اللہ کی رضا کا راستہ ناپسند کیا ، چنانچہ اللہ نے ان کے سب اعمال کوضائع کر دیا۔
۴۷: محمد۔آیات : ۲۵..۲۸
حلف اُٹھانے والے دینی سیاست دان پاکستان کے آئین ۷۳ء کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں قراردادِ مقاصد(آرٹیکل ۲ ۔اے )کی صورت میں اللہ کے حاکم ِمُطلق ہونے کی بات شامل کرنے اور تمام موجودہ قوانین کو کتاب و سنت کے مطابق ڈھالنے کی بات (آرٹیکل ۲۲۷(۱) شامل کرنے سے یہ آئین اسلامی ہو گیاہے جب کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آئین میں شامل اوراس کے تابع(وفاقی اورصوبائی قوانین کی فہرستوں وغیرہ میں شامل) وہ تمام قوانین کہ جو سرکشوں کی اھواء سے وضع کردہ ہیں اور جن کو کتاب و سنت کے مطابق ڈھالنے کا وعدہ کیا گیا ہے اِ ن طاغوتی قوانین کی موجودگی میں آئین ۷۳ء اللہ کے ساتھ شِرک(اللہ کو حاکم ماننے مگر طاغوتی قوانین کو شامل رکھنے )کی بد ترین مثال ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّآاَنْزَلْنَآاِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِاْلْحَقِّ فَاعْبُدِاللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ ﴿﴾
اَ لَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ط
بے شک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے پس اللہ کی بندگی کرو دین کو اس کے لیے خالص رکھتے ہوئے ، خبردار اللہ کے لیے (قابل قبول)صرف دین خالص ہے ۔
۳۹::الزمر۔آیات: ۲،۳
اقامت ِدین کاعَلم بلند کرنے والے بعض لوگ پاکستان کے آئین میں قرار داد ِمقاصد کے شامل ہونے سے پہلے تک(آئین و قوانین کے طاغوتی ہونے کی بنا پر) گورنمنٹ آف پاکستان کی ملازمت کرنا، اسکی عدالتوں میں اپنے مقدمات لے جانا اور وکالت کرنا ناجائز سمجھتے تھے جو کہ اُن کا ایک زبردست مؤقف تھا لیکن جونہی آئین میں قرار دادِمقاصد شامل ہو گئی انہوں نے مذکورہ سب کاموں کو جائز قرار دے دیااور اب وہ دھڑلے سے یہ سب کام کرتے ہیں حتیٰ کہ طاغوتی نظامِ سیاست ’’ جمہوریت‘‘ اختیار کرتے ہوئے اسلام کے نام پر چند سیٹیں پارلیمنٹ کی بھی حاصل کر لیتے ہیں پھر پارلیمنٹ میں جا کر انہی طاغوتی آئین و قوانین کی پاسداری کا حلف اٹھالیتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ کیا آئین میں قراردادِمقاصد کے شامل ہونے کے ساتھ وہ تمام طاغوتی قوانین ختم ہو گئے تھے جن کی وجہ سے پہلے مذکورہ بالا کام ناجائز قرار دئیے گئے تھے؟ اورزبان سے یا کسی قرار داد کے ذریعے سے اللہ کو حاکم ِمُطلق ’’ محض منوا لینے سے‘‘اور طاغوتی قوانین کو ختم کر دینے کا’’محض وعدہ آئین میں شامل کروالینے سے‘‘ کیا طاغوتی قوانین کی اطاعت جائز ہو جاتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جن کلمات کی شہادت دے کر انسان اللہ کے دین میں داخل ہوتا ہے وہ کلمات غیراللہ کی اطاعت اوراللہ کی اطاعت کے حوالے سے معاملہ بالکل واضح کر دیتے ہیں۔ ان میں ’’ لَآاِلٰہَ ‘‘ کا ’’ اِلَّا اللّٰہ‘‘ سے پہلے آنا اس بات کاپابند کرتا ہے کہ صرف اﷲ کو الٰہ ماننے اورصرف اس کی اطاعت (عبادت) پر عمل پیراہونے سے پہلے لازم ہے کہ طاغوت کی اطاعت سے انکار کر دیا جائے ۔ یوں ’’ لَآاِلٰہَ ‘‘ کے زیرِاطاعت لازم تھا کہ پہلے پاکستان کے پورے طاغوتی آئین اور دیگر کتب وفہرستِ قوانین کو اُٹھا کر پرے پھینک دیا جاتا پھر ’’اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ‘‘کے زیر اطاعت صرف اﷲکے نازل کردہ حکم ’’ کتاب و سنت‘‘ کو واحدآئین و دستور ِزندگی کے طور پر اختیار کر لیا جاتا ،، یوں باطل مکمل طور پر چلا جاتااور حق مکمل طور پر آ جاتا، لیکن پاکستان میں ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کا حق ادا کئے بغیرطاغوتی آئین میں اللہ کے حاکم ِمطلق ہونے کی بات شامل کر کے اس طاغوتی آئین ہی کو اسلامی قرار دے لیا گیااور اس کی اطاعت شروع کردی گئی اور یوں حقیقت خرافات میں کھو کر رہ گئی ۔
طاغوتی آئین میں اللہ کے حاکم ِمطلق ہونے کی بات شامل کر کے اس آئین کی اطاعت اختیارکرلینے والوں سے سوال ہے کہ کیا کسی بت کے ماتھے پر لکھ دیا جائے کہ’’ اللہ حاکم ِمطلق ہے‘‘ تو کیا اس بت کو سجدہ جائز ہو جاتا ہے ؟
پہلے ہرطاغوتی آئین و قانون کو مکمل طورپرترک کرنااور پھر صرف ’’کتاب و سنت‘‘کوآئین و دستور ِزندگی کے طور پر اختیار کرنا نہ صرف یہ کہ کلمات ِشہادت کی بناپرلازم قرارپاتاتھا بلکہ ذیل کی آیات بھی طاغوت کے حوالے سے ایسی ہی بات کا پابند کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ
الْوُثْقٰی ق لَاانْفِصَامَ لَھَا ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْم ٌ ﴿﴾
پس جس نے طاغوت سے کفر کیااور اللہ پر ایمان لایا وہ ایک مضبوط سہارے سے یوں وابستہ ہو گیا کہ کبھی اس سے جدا کیا جانے والا نہیں اور اللہ سنتا وجانتا ہے۔
۲: البقرہ ۔آیت:۲۵۶
وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَ اَنَا بُوْآ اِلَی اللّٰہِ لَھُمُ الْبُشْرٰی ج
جن لوگوں نے طاغوت سے اجتناب کر لیا کہ اُس کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔
۳۹: الزمر۔آیت: ۱۷
آیات ِ بالا کی بنا پر’’ اللہ پر ایمان اوراُس کی بندگی‘‘ کے اللہ کے ہاں قابل ِقبول ہونے کے لئے ’’پہلے طاغوت پہ ایمان سے اور اس کی بندگی سے کفرواجتناب‘‘ شرط قرار پاتا ہے اس بنا پر پہلے طاغوتی آئین و قوانین کو مکمل طورپرچھوڑنا (طاغوت کی بندگی سے مکمل اجتناب اختیارکرنا) پھرصرف ’’ کتاب و سنت‘‘ کو آئین و دستور ِزندگی کے طور پر اختیار کر نا (صرف اللہ کی بندگی پہ قائم ہونا) لازم قرار پاتا ہے۔
طاغوت سے مذکورہ بالا اجتناب نہ صرف یہ کہ ’’کتاب وسنت ‘‘کو آئین و دستور ِزندگی کے طور پر اختیار کرنے(صرف اللہ کی بندگی پہ قائم ہونے) سے پہلے لازم قرارپاتاہے بلکہ یہ بات پھر ہمیشہ لازم رہتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوااللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ج
ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔
۱۶::النحل۔آیت: ۳۶
پاکستان میں جمہوریت پسند دینی راہنماؤں نے اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے نبی ﷺ کی طرح محض اللہ کے کلمات لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا سہارانہ لیا جو کہ ہر طاغوتی آئین وقانون کویکسر رَدّ اور صرف حق ( کتاب ُاللہ و سنت ِرسول اللہ ﷺ) کو مکمل طورغالب کرنے کی بات کرنے والے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَ یُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ﴿﴾
اوراللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو حق کردکھاتا ہے خواہ ناپسند ہی کیوں نہ کریں مجرم ۔
۱۰::یونس۔آیت: ۸۲
جمہوریت پسند دینی راہنماؤں نے محض اللہ کے کلمات کا سہارالینے کی بجائے اللہ کے حاکم ِمطلق ہونے کی بات پر مبنی اپنی وضع کردہ قرارداد کا سہارا لیا اور اسے طاغوتی آئین میں شامل کروانے کو بہت بڑا کارنامہ قرار دیاپھر اسی قرارداد کی بنا پر طاغوتی آئین وقوانین کی پاسداری کے حلف اور ان کی اطاعت کے شرک کو جائزکرنے کا کارنامہ بھی سرانجام دے ڈالا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جو عوام پاکستان بنانے کے لئے ’ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کا نعرہ لگا کر لاکھوں جانوں کی قربانی دے سکتے تھے اور قراردادمقاصد کوطاغوتی آئین میں شامل کروا سکتے تھے وہی عوام صحیح راہنمائی ملنے پر اور ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ‘‘ کا حقیقی تقاضا جان کر’’ہر طاغوتی آئین وقوانین کے رَدّ اورصرف کتاب وسنت کے نفاذ‘‘ کو عملی جامہ کیوں نہیں پہنا سکتے تھے مگر دینی راہنماؤں نے عوام کواللہ کی صاف ،سیدھی اورآسان راہ پر ڈالنے کی بجائے اللہ کی راہ میں ٹیڑھ پیدا کردی اور’’دین کے حوالے سے سادہ لوح عوام‘‘ کوگمراہ کر کے طاغوتی آئین وقوانین کی اطاعت میں مبتلا کر دیایوں اللہ کے ساتھ شرک فی الحکم میں مبتلا کردیا۔ پاکستان کے حالات اگراللہ کے ساتھ اسی شرک کا نتیجہ ہیں تویہ بھی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کو موجودہ دگرگوں حالت تک پہچانے کے حقیقی ذمہ دار کون ہیں، انہیں دیکھ کر اہل کتاب سے کہا ہوا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد آجاتا ہے کہ
قُلْ ٰٓیاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْ نَھَا عَوَجًا
وَّ اَنْتُمْ شُھَدَآءُ ط وَمَااللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴿﴾
کہو ! اے اہل ِ کتاب آخر کیوں روکتے ہو تم اللہ کی راہ سے ہراُس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ؟ چاہتے ہو تم اس(اللہ کی راہ)کو ٹیڑھاکرنا حالانکہ تم(اصل بات کے)خود گواہ ہو۔ اور نہیں ہے اللہ غافل ان حرکتوں سے جو تم کرتے ہو۔
اٰلِ عمران۔ آیت :۹۹:: ۳
اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے دینی راہنماؤں کی وضع کردہ قراردادِ مقاصد لوگوں کو بہت بڑی گمراہی میں مبتلاء کرنے کا باعث بنی جبکہ یہ قرارداد خود بھی گمراہی کا واضح مظہر ہے جو اس کے پہلے پیرے کے فوراً بعد سامنے آجاتا ہے
قرار دادِ مقاصدکا پہلا پیرا یوں ہے کہ
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے۔
قرارداد کے دوسر ے پیرے سے بات یوں شروع ہوتی ہے کہ
یہ پاکستان کے عوام کی مرضی ہے کہ وہ ایک نظام/ قانون بنائیں (جس میں)مملکت اپنے اختیارات عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔
جمہوریت،آزادی ، مساوات ، رواداری اور عدل ِ عمرانی کے اصولوں کی، اسلام کی بیان
کردہ تشریح کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔
قرارداد کے پہلے پیرے میں اللہ کو حاکم ِمطلق ماننے اور اس کی مقرر کردہ حدوں کے اندرحاصل ہونے والے اختیارکے مقدس امانت ہونے کی بات کی گئی ہے اور لوگوں کے اختیار کے حوالے سے ’’حاکم ِمطلق ‘‘کے ارشاد ات واضح ہیں کہ
یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْامْرِ مِنْ شَیْءٍ ط قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ط
پوچھتے ہیں کہ کیا ہمارا بھی معاملے میں کوئی اختیار ہے ؟ کہو کہ اختیار توسارے کا ساراصرف اللہ کا ہے۔
۳: آل ِعمران۔آیت: ۵۴ا
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ ٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ط وَمَنْ یّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلا مُّبِیْنًا ﴿﴾
کسی مومن مرد اور کسی عورت کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اُس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو پھر اُسے اپنے معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیاررہے اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
۳۳: الاحزاب۔آیت:۳۶
یوں جب ہر معاملے میں حکم قانون اور فیصلے کا اختیارصرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، مومنین کے پاس اللہ کے حکم قانون اورفیصلے کی بلاچون و چراء اطاعت کے سوا کوئی اختیار نہیں اور جب اللہ ان کے لیے مکمل قانون و نظامِ زندگی ’’اسلام‘‘کا فیصلہ دے چکا ہے جس میں نظام ِ سیاست ’’خلافت ‘‘بھی شامل ہے پھر اس کی موجودگی کے باوجود قرار دادِمقاصد میں عوام کی مرضی کے نظام وقانون کی اور جمہوریت کی سفارش کرناحاکمِ مطلق مانی ہوئی ہستی کے اختیارات میں عوام کو شریک کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ اس سے خود قراردادِ مقاصد اللہ کے ساتھ شرک کی واضح مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔
جمہوریت پسند دینی راہنماؤں کے سامنے جب مذکورہ بالا معاملہ رکھا جاتا ہے تو بعض کہتے ہیں کہ آپ محض سطحی قسم کی باتیں کرتے ہیں جب قرارداد میں ’’جمہورکے اختیارکے اللہ کی مقرر کردہ حدوں کے اندررہنے کی بات کر دی گئی ہے تو جمہور کااختیاروہیں استعمال ہو گا جہاں کتاب و سنت سے کوئی راہنمائی نہ ملتی ہو ‘‘ اور جب ’’جمہوریت کے اصولوں کی اسلام کی بیان کردہ تشریح کی پاسداری‘‘ کی بھی بات کر دی گئی ہے تو پھر اس قرارداد کو اختیار کرنے میں کیا حرج ہے ۔
ان سے سوال ہے کہ کیا کتاب و سنت میں معاملات زندگی میں راہنمائی کے حوالے سے کوئی رخنہ رہ گیاتھا جو اَب جمہور کے اختیارسے پُر کرنا ہے ؟ اور ’’جمہوریت کے اصولوں کی اسلام کی بیان کردہ تشریح کی پاسداری‘‘ کے حوالے سے گزارش پیچھے بھی کی جاچکی ہے کہ جو نظام غیر اللہ نے وضع کیا ہو اس کے اصولوں کی تشریح بھی غیر اللہ ہی کی طرف سے آیاکرتی ہے ۔مثلاً پارلیمانی و صدارتی نظامِ جمہوریت کے اصول اور ان کی تشریح برطانیہ ، امریکہ اور فرانس سے ہی ملے گی نہ کہ اسلام سے۔ اسلام سے تو، جمہوریت کے غیراللہ کا’’اللہ کے دین کی دلیلوں سے عاری اوراللہ کے دین کی دلیلوں کے مقابل نظام‘‘ ہونے کی بناپر، اسے اختیار کرنے اور نہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ آئے گا جو کتاب و سنت کی روشنی میں یہی ہے کہ ’’اللہ کی بجائے غیر اللہ کا اور اللہ کے دین کے مقابل ومتضاد نظام ہونے اور اللہ کی بجائے اکثریت کو اختیارِ قانون سازی تفویض کرنے سمیت اپنے وجودمیں اللہ کے ساتھ شرک کی دیگر صورتیں سمیٹے ہونے کی بناء پر جمہوریت اختیار کرنا شرک ہے ‘‘۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک دم سارے اسلامی قوانین نافذ کرنا خلافِ سنت ہے کیونکہ نبی ﷺ نے یہ کام تئیس سالوں میں بتدریج کیا تھا ۔ اگرچہ ایساہی ہوا تھا لیکن ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کی اتباع میں یہ ا صول پہلے دن سے ہی طے ہو چکا تھا کہ غیراللہ کا حکم،قانون و فیصلہ تو ذرا سا بھی نہیں مانا جائے گا بلکہ صرف اﷲ کا ہرنازل شدہ حکم، قانون و فیصلہ پورے کا پورا مانا جائے گا ۔ اس اصول کی بناپررسول اللہﷺ اور دیگر ہر کلمہ پڑھنے والے نے کلمہ پڑھنے کے وقت ہی سے غیر اﷲ کااللہ کے دین کے مقابل ہر حکم ، قانون و فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھااور اس وقت تک اﷲ کے جتنے احکامات ، قوانین اور فیصلے نازل ہو چکے تھے ان سب کی اطاعت قبول کر لی تھی ۔ اللہ کے دین کی اقامت کے لئے آج بھی اسی سنت کی اتباع کرنا ہوگی اور ایک دم تمام طاغوتی قوانین کو رد کرنا ہو گا اورساتھ پوری ’’کتاب و سنت‘‘ کی اتباع اختیار کرنا ہو گی کیونکہ ہم تک دین مکمل ہوکر پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ
یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی ا لسِّلْمِ کَآ فَّۃً ص وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ﴿﴾
اے ایمان والو ! تم اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم کی اتباع مت کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
البقرہ۔آیت:۲۰۸: ۲
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جمہوریت، طاغوتی قوانین کے حلف اور ان کی پاسداری اگرچہ شرک ہی نظر آتے ہے لیکن ہم ایسا ’’ اقامت ِدین‘‘ کے لئے کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے ہم پارلیمنٹ میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں اللہ کا کلمہ بلندکرتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ہم ایک دن پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لیں گے اور دین قائم کر دیں گے۔ ان لوگوں سے سوال ہے کہ طاغوتوں کے آئین وقوانین کی پاسداری کے حلف اُٹھاتے ہوئے یعنی ان کی اطاعت کرتے ہوئے اقتدار میں آکر دین قائم کرنے کا طریقہ آخر نبیﷺ نے کیوں اختیار نہ کیا ؟ جبکہ آپﷺکو اس کی لالچ بھی دی گئی تھی کہ کیا آپ ﷺ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اقتدار دیتے ہیں، اگر مال و دولت چاہیے وہ دیتے ہیں، اگر کوئی خوبصورت عورت چاہیے وہ دیتے ہیں مگر یہ ایک اللہ کی دعوت دینی بند کر دو، تو کیا نبی ﷺ نے ان کی بات مان لی تھی کہ چلو جب مَیں ان کا حکمران بن جاوں گا تو پھر زور و زبردستی ان کو مسلمان کر لونگا، نہیں انہوں نے اس کا سختی کے ساتھ انکار فرمایا اور کہا کہ اگر میرے ایک ہاتھ پر چاند اور ایک ہاتھ پر سورج بھی رکھ دو توبھی میں حق بات کرنے سے نہيں رکوں گا۔
تو نبیﷺ نے کفار کی ذرا سی بھی اطاعت قبول نہیں کی تھی مگرآج اقامت ِدین والوں نے اقتدار کی خاطر طاغوت کے قوانین کی اطاعت میں کوئی کسرنہیں رہنے دی ہے حتیٰ کہ آئین و قوانین کے دوسروں سے زیادہ پاسدارومطیع وفرمانبردار ہونے کا دعویٰ بھی یہی کرتے ہیں۔
ان سے گذارش ہے کہ ذیل کی آیات کو غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ نبیﷺ کا دین جس کی اقامت کا حکم ہے وہ حقیقت میں ہے کیا ؟ اورپھر بتائیں کہ جب مکہ میں طاغوت غالب تھا تو کیا نبی ﷺ نے اس دین پہ عمل موقوف کر دیا تھا؟کیا اس حالت میں آپﷺ کفار کی طرف ذراسے بھی جُھکے تھے؟ اور کیا آپﷺ نے اُن کے مقابل کوئی مداہنت اختیار کی تھی؟ اور ان کی ذرا سی بھی اطاعت قبول کی تھی جبکہ آپ اتناستائے جا رہے تھے کہ اتنا کبھی کوئی نہیں ستایا گیا تھا۔
نبی ﷺ کے دین کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ ښ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ١٠٤؀ۙوَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۚ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ١٠٥؁
کہو کہ اے لوگو ! اگرتمہیں میرے دین کے بارے میں شک ہے تو (سُن لوکہ) میں اُن کی بندگی نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے علاوہ بندگی کرتے ہوبلکہ میں تو صرف اُس اللہ کی بندگی کرتا ہوں جو تمہیں فوت کرتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے ہو جاؤں اور یہ کہ میں ہر طرف سے کٹ کر یکسو ہو کرپنا رُخ اس دین کی سمت جما دوں اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤں۔
۱۰::یونس۔آیات:۱۰۴،۱۰۵
آیاتِ بالا سے واضح ہوتا ہے کہ وہ دین جس پہ نبی ﷺ قائم تھے وہ تو ہے ہی ’’ اللہ پر ایمان کے ساتھ غیراللہ کی بندگی سے اجتناب کرنے اور صرف اللہ کی بندگی پہ قائم ہونے کا نام ‘‘پھر یہ آیات مکہ میں اُس وقت نازل ہوئیں تھیں جب وہاں طاغوت کا غلبہ تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ اس دین پہ اُس وقت ہی سے قائم ہو گئے تھے جب وہاں طاغوت کا غلبہ تھا اور پھرقائم بھی اس شان سے ہوئے تھے کہ نہ طاغوت کی طرف ذرا بھر جُھکے تھے، نہ اُن کی ذرا بھر اطاعت اختیار کی تھی اور نہ کوئی مداہنت اختیار کی تھی کیونکہ اللہ نے آپﷺ کو ایسے ہی ثابت قدم رہنے کا حکم دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے مکہ میں نازل ہونے والے ارشادات ہیں کہ
فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۭ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ١١٢؁وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ١١٣؁
سو قائم رہو تم جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جو تائب ہو کر تمہارے ساتھ ہیں اورسرکشی نہ کرنا، بے شک وہ تمہاے اعمال دیکھ رہا ہے ۔ اور مت جُھکنا اُن لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ورنہ تم بھی جہنّم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے اور تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہ ہو گا اور نہ تمہیں مدد ہی ملے گی۔
۱۱::ھود۔آیات:۱۱۲، ۱۱۱
فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّ بِیْنَ ﴿﴾ وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنوْنَ ﴿﴾
پس نہ اطاعت کرنا تم جھٹلانے والوں کی۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم مداہنت اختیار کرو(کچھ ڈھیلے پڑ جاؤ)تو یہ بھی مداہنت اختیار کر لیں۔
۶۸: القلم۔آیات:۸،۹
فَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْ ھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا﴿﴾
سو ہرگز نہ اطاعت کرو کافروں کی اور ان کے ساتھ اس (قرآن) کے ذریعے جہادِ کبیر کرو۔
۲۵::الفرقان۔آیت: ۵۲
جمہوریت اور طاغوتی آئین و قوانین کی پاسداری کو شرک جاننے مگر اس کے ذریعے اقامت ِدین کرنے پر مُصر رہنے والوں میں سے بعض ’’حالت ِاِضطرار(بے بسی کی حالت)‘‘ کا بہانہ بناتے ہیں جبکہ قرآن میں مذکورجس حالت ِ اضطرار کا وہ بہانہ بناتے ہیں وہ بھوک کی انتہائی حالت کے حوالے سے ہے اور اس میں بھی ’’کھانے کے لئے حرام کردہ چیزیں ‘‘بقدرضرورت کھانے کی اجازت ہے نہ کہ شرک کرنے کی اجازت ہے۔ :::قرآن سے دیکھیں ۲: ا لبقرہ۔ ۱۷۳، ۶ : ا لانعام۔۱۴۵، ۵: ا لمائدہ۔۳:::
شرک ِجمہوریت کے لئے بعض لوگ ’’حالت ِا ِکرہ (طاغوتوں کی طرف سے زور و زبردستی کئے جانے کی حالت) ‘‘کا بہانہ کرتے ہیں۔ وہ لوگ ذرا بتائیں کہ ’’ اسلامی+جمہوری پارٹی‘‘ تشکیل دینے، الیکشن کے لئے کاغذات ِنامزدگی داخل کرانے ، لوگوں سے ووٹ مانگنے پھر اسمبلی میں پہنچ کر طاغوتی آئین و قوانین کی پاسداری کا حلف اُٹھانے کے لئے طاغوت کی طرف سے اُن پر کوئی زور و زبردستی کی جاتی ہے؟ یا اپنا ’’جمہوری حق ‘‘قرار دیتے ہوئے مذکورہ تمام شرکیہ کام وہ خود اختیار کرتے ہیں؟
مذکورہ بالا لوگوں میں سے بعض حالت ِخوف کا بہانہ کرتے ہیں اورپارلیمانی شرک کی گنجائش نکالتے ہیں یہاں تک کہ غلبہ حاصل ہو جائے جبکہ اللہ تعالیٰ حالت ِخوف ہی میں شرک نہ کرنے اور ایمان و عمل ِصالح پہ قائم رہنے کے نتیجے میں غلبہ و اقتدار کا وعدہ فرما رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کاارشادہے کہ
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 55؀
وعدہ فرمایا ہے اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور عمل کرتے رہے صالح کہ ضرور عطا فرمائے گا انہیں زمین میں خلافت جس طرح عطا فرمائی تھی ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے اور ضرور قائم کر دے گا مضبوط بنیادوں پر ان کے لیے اس دین کو جسے پسند کر لیا ہے اللہ نے اور ضرور بدل دے گا ان کی حالت ِخوف کو امن سے ،بس وہ میری عبادت کرتے رہیں اور نہ شریک بنائیں میرے ساتھ کسی کو تو جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔
۲۴:النور۔آیت: ۵۵
بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں رائج آئین و قوانین تو اسلام کے مطابق ہیں، اور پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہے تو بتایا جائے کہ ان میں سے آخر کون سے قوانین خلاف ِاسلام ہیں؟
ان سے پہلی عرض یہ ہے کہ اگرآئین و قوانین اسلام کے مطابق تھے( جو ابھی تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں) تو پھر قراردادِ مقاصد پیش کرنے کی ضرورت کیوں درپیش آئی تھی؟ اور آئین میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ’’ تمام موجودہ قوانین کو قر آ ن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا (شق۲۲۷(۱) )۔
دوسری گذارش یہ کہ کسی ضابطے کے اسلامی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بِمَآاَ نْزَلَ اللّٰہُ ہو یعنی کتاب و سنت سے اخذ کردہ ہو اور اس بنا پر ساتھ دلیل(آیت یاحدیث)کا بھی حامل ہو۔
اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآاَ نْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَ ھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ ط
تم اللہ کے نازل کردہ کے ساتھ ان کے مابین فیصلے کرو اور ان کی اھواء کی پیروی مت کرو، اس حق سے منہ موڑ کے جو تمہارے پاس آچکا ہے ۔
۵:المائدہ۔آیت:۴۸
اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَي الْبَنِيْنَ ١٥٣؀ۭمَا لَكُمْ ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ ١٥٤؁اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ١٥٥؀ۚاَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِيْنٌ ١٥٦؀ۙفَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ١٥٧؁
کیا اُس نے منتخب کیا ہے بیٹیوں کو بیٹوں پر ؟ کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟کیسے فیصلے کرتے ہو؟کیا تم غور نہیں کرتے؟ کیا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟ اچھا تو لاؤ اپنی کتاب اگر تم سچے ہو !
( ::الصٓفٰت۔آیات: ۱۵۳۔۔۔۱۵۷37)
وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ١١١؁
اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں داخل ہو گا جنت میں مگر وہ جو ہو گا یہودی یا نصرانی۔ یہ باتیں ان کی تمنائیں ہیں۔ ان سے کہو کہ پیش کرو اپنی دلیل ،ا گر تم سچے ہو۔
۲: البقرہ۔آیت: ۱۱۱
آیات ِبالا میں سے پہلی آیت احکامات ، قوانین اور فیصلوں کو کتاب وسنت سے اخذ کرنے کا پابندکرتی ہیں اور دوسری اور تیسری آیت پیش کی گئی ہر بات کے ساتھ‘‘ کتاب و سنت سے دلیل پیش کرنے کا پابند کرتی ہے۔ کتاب و سنت میں اس سلسلے کی بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں جو مذکورہ چیزوں کا سختی سے پابند کرتی ہیں۔اب جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں رائج آئین و قوانین تو اسلام کے مطابق ہیں وہ بتائیں کہ کیاسارے قوانین بناتے وقت کتاب و سنت سے اخذ کئے گئے تھے؟ اوراس بنا پر کیا سارے قوانین کتاب و سنت کی دلیلوں(آیات یااحادیث)سے مزیّن ہیں؟


Friday, April 1, 2011

کیا بیعت پیری مریدی والی بیعت ہے؟

0 comments

آجکل جہاں اور بہت سے اسلامی مسائل میں ایک عام آدمی صحیح فیصلہ نہیں کر پارہا ان میں ایک اہم مسئلہ بیعت کا بھی ہے کہ وہ کس کے ہاتھ پر بیعت کر کے جاہلیت کی موت سے بچ سکے کیونکہ اس پر احادیث موجود ہیں کہ جس نے بیعت نہ کی اور مرگیا تو اس کا مرنا جاہلیت کا سا مرنا ہے، اور یہ معاملہ ہے بھی بہت تشویش والا اس میں ہم سب کو پریشانی ہونی چاہیے کہ کہیں وہ جاہلیت کی موت نہ مارا جائے۔ تو بعض لوگوں نے اس کا غلط مطلب لے کر یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ اب بیعت ہے ہی نہیں ہےبیعت تو اسلام کی ہوا کرتی تھی اس کے علاوہ کون سی بیعت ہوتی ہے، تو اس طرح انہوں نے بیعت کا ہی انکار کر دیا ہےجو کہ اچھی بات نہیں ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس بیعت کو ہرکسی کے لیے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آدمی کو جو کوئی بھی اچھالگے تو اس کی بیعت کر لینی چاہیے وہ جائز ہے، اور اب چاہے ایک ہی علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہوں کہ جن کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ہوئی ہو، تو یہ دونوں طریقے قرآن و سنت سے ہٹے ہوئے ہیں، اب یہ عرض بھی کرتا چلوں کہ اب کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں مولوی صاحب نے اس پیری مریدی کو جائز کہا ہے فلاں نے اس کو جائز کہا ہے بلکہ خود بیعت لیتے ہیں تو محترم بہن بھائیو ہم نے جس عظیم ہستی کی رسالت کا اقرار کلمے میں کیا ہے ہم کو چاہیے کہ اپنے عمل سے بھی اس کو ثابت کریں اور جو حقِ پیروی ان صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ کسی کو بھی نہ دیں، کیونکہ دین اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مکمل ہو گیا تھا اگر تو کوئی قرآن و صحیح حدیث سے موجودہ پیری مریدی کو ثابت کردے تو صحیح ورنہ کسی کی بات کو جواز بنا کر ہم دین میں کوئی اضافہ کرنے کی جسارت نہ کریں تو یہ ہمارے حق میں اچھا رہے گا۔
ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ قرآن و صحیح حدیث میں جو بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت کس کی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے، اللہ سے دُعا ہے کہ وہ حق بات کرنے، حق بات کو قبول کرنے اور حق بات پر عمل کرنے کی ہم سب کو توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔



ابوالنعمان، ابوعوانہ، حضرت زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ جس دن مغیرہ بن شعبہ کا انتقال ہوا، اس دن میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا (پہلے) وہ کھڑے ہو گئے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) کہا، کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں آپ سے اسلام پربیعت کرتا ہوں، تو آپ نے مجھ سے مسلمان رہنے اور ہر مسلمان سے خیر خواہی کرنے کی شرط پربیعت لی، پس میں نے اسی پر آپ سے بیعت کی، قسم ہے اس مسجد کے پروردگار کی، بے شک میں تم لوگوں کا خیر خواہ ہوں اس کے بعد انہوں نے استغفار کیا اور (منبر سے) اتر آئے۔
صحیح بخاری:جلد اول:کتاب : ایمان کا بیان
اس حدیث سے ثابت ہو کہ اسلام کی بیعت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیا کرتے تھے اور ساتھ ہر مسلم کی خیر خواہی چاہنے کی بھی، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف باتوں پر بھی بیعت لی تھی مثلا شرک نہ کرنے،زنا نہ کرنے، چوری نہ کرنے، کسی پر بہتان نہ باندھنے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہ کرنے، جہاد سے نہ باگنے وغیرہ پر بھی بیعت لی گئی ہے دوسری سب بیعتیں اسلام کی بیعت کے بعدلی جاتی تھیں۔
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ حرہ کے وقت جو یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ہوا عبد اللہ بن مطیع کے پاس آئے تو ابن مطیع نے کہا ابوعبدالرحمن کے لئے غالیچہ بچھاؤ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ کے پاس بیٹھنے کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکال لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اسکے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اسکی گردن میں بیعت کا قلادہ نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
اب بات آتی ہے کہ نبی علیہ السلام کے بعد بیعت کس کی کرنے کا حکم ہے کہ جس کو نہ کرنے سے مسلمان کی موت جاہلیت کی موت بن جاتی ہے، اور ہاں یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض لوگ جاہلیت کی موت کو کفر کی موت قرار دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اس بیعت کے معاملے میں جتنی بھی احادیث ملتی ہیں سبھی میں جاہلیت کی موت ہی کہا گیا ہے نہ کہ کفر کی موت، اگر یہ کفر کی موت مراد لی جائے تو اس وقت کوئی بھی مسلمان نہیں رہے گا:::کیونکہ اس وقت خلیفہ کا وجود بظاہر کہیں نظر نہیں آ رہا کہ جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے::: بلکہ اس بات کو اتنا ہی لینا ہے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سے تجاوز کرنا بھی جاہلیت ہے تو کیا اس کو کوئی کفر کہے گا؟؟؟ اس حدیث میں جو فرمایا گیا ہے کہ جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکالا، کا مطلب ہے کہ جس نے خلیفہ کی بیعت کو توڑا قیامت کے دن اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی عذاب سے بچنے کے لیے،
اصل میں معاملہ ہمیشہ تبھی خراب ہوتا ہے جب انسان اپنی ناقص عقل کو یا کسی اور کے فہم اور سوچ کو دین کے یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مقابلے پر استعمال کرتا ہے، اگر ہم بات کو اتنا ہی لیں جتنا کہ ہم کو بتائی گئی ہے تو ممکن نہیں کہ کوئی مسئلہ بنے۔
آگے چلتے ہیں۔۔۔۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دوسرا خطبہ سنا جب کہ وہ منبر پر بیٹھے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا دوسرا دن تھا، انہوں نے خطبہ پڑھا اور حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے، کچھ نہیں بول رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہیں گے، یہاں تک کہ ہمارے بعد انتقال فرمائیں گے، پھر اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے تو اللہ نے تمہارے سامنے نور پیدا کر دیا ہے کہ جس کے ذریعے تم ہدایت پاتے ہو، جس سے اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت کی بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو غار میں دوسرے ساتھی تھے مسلمانوں میں سے تمہارے امور کے مالک ہونے کے زیادہ مستحق ہیں، اس لئے اٹھو اور ان کی بیعت کرو، ان میں سے ایک جماعت اس سے پہلے سقیفہ بنی ساعدہ ہی میں بیعت کر چکی تھی، اور عام بیعت منبر پر ہوئی، زہری نے حضرت انس بن مالک، کا قول نقل کیا ہے، کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس دن سنا کہ حضرت ابوبکر سے کہتے ہوئے کہ منبر پر چڑھیے اور برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ وہ منبر پر چڑھے اور لوگوں نے عام بیعت کی۔
صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان
عبد اللہ بن محمد بن اسماء، جویریہ، مالک، زہری، حمید بن عبدالرحمن، مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا) میں اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام اور آپ دونوں خلیفہ کی سنت پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بیعت کی اور تمام لوگوں نے مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور مسلمانوں نے بیعت کی۔
صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان
ان واقعات سے ثابت ہو رہا ہے کہ نبی علیہ السلام کے بعد بیعت خلیفہ کا حق ہے نہ کہ کسی اور کا اور اس پر بےشمار احادیث مبارکہ موجود ہیں کہ بیعت خلیفہ، امام، امیرالمومین کے ہاتھ پر ہوتی ہے اس کی دلیل میں اور حدیث دیتا ہوں۔ نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَائُ کُلَّمَا هَلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَکُونُ خُلَفَائُ تَکْثُرُ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
حضرت ابوحازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا تو میں نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ ونائب نبی ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے صحابہ نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وفاداری کرو پہلی بیعت ( کے حامل) کے ساتھ اور پھر پہلی بیعت کے ساتھ، اور احکام کا حق انکو ادا کرو بے شک اللہ ان سے انکی رعایا کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
یعنی کہ بنی اسرائیل میں ایک نبی کی وفات کے بعد دوسرا نبی ہی آتا تھا جو ان کی سیاست و امارت کرتا تھا، ہمارے نبی علیہ السلام کے بعد کیونکہ کوئی نبی نہیں آنا تھا اس لیے فرمایا کہ میرے بعد خلفاء ہوں گے:::یہ بھی ممکن ہے اس سے مراد ایک کے بعد ایک خلیفہ مراد ہو:::تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ایک وقت میں اگر زیادہ خلفاء ہوں تو پھر کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ:::فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ::: تم وفاداری کرو پہلی بیعت ( کے حامل) کے ساتھ اور پھر پہلی بیعت کے ساتھ، یعنی کہ اگر ایسا ہو تو جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت ہوئی ہوگی اس خلیفہ کی اطاعت کی جائے گی اس سے یہ چیز بھی ملتی ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ ایک وقت میں دنیا میں دو، تین یاچار خلیفہ اس وجہ سے ہوں کہ ایک دوسرے کے علم میں نہ ہو کہ کوئی اور بھی خلیفہ ہے تو پھر کسی طرح ان کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے پھر دونوں یہ بات دیکھیں گے کہ پہلے کس کے ہاتھ پر بیعت ہوئی ہے تو جو پہلا خلیفہ ہو گا اس کی خلافت قائم رہے گی دوسری کی ختم ہوجائے گی اور دوسرا خلیفہ خود اور اپنے مامورین کے ساتھ پہلی بیعت کے حامل خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرئے گا کیونکہ اب شرعی خلیفہ پہلا ہے نہ کہ بعد والا یہی طریقہ آخر کار تمام خلفاء اور مسلمانوں کو مجتمع کردے گا ایک امام کے ہاتھ پر، ان شاءاللہ
اسلام میں ایک وقت میں صرف ایک خلیفہ ، امام ، امیرالمومین ہوتا ہے اگر کوئی دوسرا پہلے کے ہوتے بیعت لے تو اس کو قتل کرنے کا حکم نبی علیہ السلام نے دیا ہے، اسلام امت میں وحدت و اتحاد کا داعی ہے نہ کہ افتراق و انتشار کا، اسی لیے آپ علیہ السلام نے اتنا سخت حکم فرمایا ہے کہ دوسرے کو قتل کردیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےارشاد ات مبارکہ ہیں کہ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو ان دونوں میں سے دوسرے کو قتل کردو۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان

اس سے مراد یہ ہے کہ جس کسی نے پہلے خلیفہ کے ہوتے دوسری بیعت لی ہے اور اس کو علم ہو کہ پہلے ایک خلیفہ موجود ہے تو اس کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے امت میں تفرق پیدا کرنا چاہا ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا تو عبد اللہ نے کہا ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ رکے ہم میں سے بعض نے اپنا خیمہ لگانا شروع کردیا اور بعض تیراندازی کرنے لگے اور بعض وہ تھے جو جانوروں میں ٹھہرے رہے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی الصلوة جامعة یعنی نماز کا وقت ہوگیا ہے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے ذمے اپنے علم کے مطابق اپنی امت کی بھلائی کی طرف راہنمائی لازم نہ ہو اور برائی سے اپنے علم کے مطابق انہیں ڈرانا لازم نہ ہو اور بے شک تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی حصہ میں ہے اور اس کا آخر ایسی مصیبتوں اور امور میں متبلا ہوگا جسے تم ناپسند کرتے ہو اور ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر وہ ختم ہو جائے گا اور دوسرا ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا یہی میری ہلاکت کا ذریعہ ہوگا جس کو یہ بات پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اس معاملہ سے پیش آئے جس کے دیئے جانے کو اپنے لئے پسند کرے اور جس نے خلیفہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر دل کے اخلاص سے بیعت کی تو چاہیے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے اور اگر دوسرا شخص اس سے جھگڑا کرے:::یعنی وہ بھی بیعت لینا شروع کر دے::: تو دوسرے کی گردن مار دو راوی کہتا ہے پھر میں عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قریب ہوگیا اور ان سے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو عبد اللہ نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا میرے کانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔۔۔۔۔۔۔الخ
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان


حضرت عرفجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے تم اپنے معاملات میں کسی ایک آدمی پر متفق ہو پھر تمہارے پاس کوئی آدمی آئے اور تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنا چاہے تو اسے قتل کر دو۔

صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان



حضرت عرفجہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب میری امت میں فساد ہوگا، فساد ہوگا، پس جو شخص مسلمانوں کے متفق مجمع میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے مار ڈالو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:


احمد بن یحیی صوفی، ابونعیم، یزید بن مردانبة، زیاد بن علاقة، عرفجة بن شریح الاشجعی سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد نئی نئی باتیں ہوں گی (یا فتنہ فساد کا زمانہ آئے گا) تو تم لوگ جس کو دیکھو کہ اس نے جماعت کو چھوڑ دیا یعنی مسلمانوں کے گروہ سے وہ شخص علیحدہ ہوگیا اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں پھوٹ ڈالی اور تفرقہ پیدا کیا تو جو شخص ہو تو تم اس کو قتل کر ڈالو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے (یعنی جو جماعت اتفاق و اتحاد پر قائم ہے تو وہ اللہ کی حفاظت میں ہے) اور شیطان اس کے ساتھ ہے جو کہ جماعت سے علیحدہ ہو وہ اس کو لات مار کر ہنکاتا ہے۔
سنن نسائی:جلد سوم:
ان ارشادات سے واضح ہوا کہ دوسری بیعت لینے والا واجب القتل ہے، تو آجکل جو کچھ ہورہا ہے وہ آپ سب کے سامنے ہے کہ ایک ہی علاقے، شہر،قصبہ، گاوں میں کئی کئی لوگ بیعت لے رہے ہیں، جبکہ اسلام میں پوری دنیا میں ایک وقت میں صرف ایک امام خلیفہ ہوتا ہےکہ جس کے ہاتھ پر سب مسلم بیعت کرتے ہیں ، اور جو آجکل ہو رہا ہےآخر کس دلیل سے یہ کام دین بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس نے بیعت نہ کی اس کا جنازہ بھی جائز نہیں ہے، مجھے آج تک اس کی دلیل نہیں مل سکی جب کہ میں نے کئی علماء جو کہ اس کے قائل ہیں سے اس کی دلیل مانگی ہے مگر کوئی بھی صحیح سند سے اس مروجہ پیری مریدی کا ثبوت قرآن و صحیح حدیث سے نہیں دے سکا۔ اگر آپ میں سے کسی بھائی یا بہن کے پاس اس مروجہ پیری مریدی کی دلیل ہو تو مجھے ضرور دیں۔ جزاک اللہ
میں اس پیری مریدی کے سسٹم کو اس نظر سے بھی دیکھتا ہوں کہ کہیں یہ اس لیے تو نہیں چلایا گیا کہ لوگ خلافت کے نظام کو ہی بھول جائیں جو کہ اسلام کی روح و جان ہے اور وہ بس اس گورکھ دندھے کو ہی خلافت کا نظام سمجھنےلگیں، اسی لیے ان لوگوں نے پیری مریدی کے سسٹم میں خلیفہ کا نام استعمال کیا ہے کہ جی یہ فلاں سنسلہ کے خلیفہ ہیں اور یہ فلاں سنسلہ کے خلیفہ ہیں، یہی بات اس کی دلیل بنتی ہے کہ لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے کہ دیکھو جی احادیث میں بھی یہی ہے کہ خلیفہ کی بیعت کی جائے تو ہمارا یہ خلیفہ ہے۔

کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں یہ سب باتیں اپنے منہ کی کررہا ہوں نہیں بلکہ میں اس سارے سسٹم کا حصہ رہا ہوں۔

میں اس سارے سسٹم سے کیسے نکلا یہ لمبی کہانی ہے۔


کسی خلیفہ کی بیعت توڑنا کبیرا گناہوں میں سے ہے کہ جس کو جاہلیت بھی کہا گیاہے تو اس کا مطلب کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ خلیفہ اسلام میں کوئی ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی ہر بات کو قبول کرنا فرض ہے اگر نہ مانی تو گناہ ملے گا تو اس بات کی وضاحت کے لیے نبی علیہ السلام کے فرمان پیش کرتا ہوں جس سے اس مسئلے کی وضاحت بھی ہوجائے گی ان شاءاللہ


حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا اس نے آگ سلگائی اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس میں داخل ہو جاؤ، چناچہ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا، اور بعض نے کہا ہم تو آگ سے بچنے کے لئے اسلام لائے ہیں لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حال بیان کیا تو جن لوگوں نے اس آگ میں داخل ہونا چاہا تھا ان سے آپ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس میں رہتے اور لوگوں سے فرمایا کہ گناہ میں اطاعت نہ کرو، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔

صحیح بخاری:جلد سوم:باب:امام کا حکم سننے اور اطاعت کرنے کا بیان جب تک کہ گناہ کا کام نہ ہو


اسماعیل، ابن وہب، عمرو، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ عبادہ بن صامت کے پاس گئے وہ بیمار تھے، ہم لوگوں نے کہا اے اللہ کے بندے آپ اصلاح کردیں آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو تاکہ اللہ آپ کو اس کا نفع پہنچائے، انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی آپ نے جن باتوں کی ہم سے بیعت لی وہ یہ تھیں، کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر ہم اپنی خوشی اور اپنے غم میں اور تنگدستی اور خوشحالی، اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور خلیفہ سے نزاع نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر، جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔

صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان


حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شَيْئًا تَکْرَهُونَهُ فَاکْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اماموں میں سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور تم ان کے لئے دعاۓ مغفرت کرتے ہو اور تمہارے خلیفہ میں سے برے خلیفہ وہ ہیں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں اور تم انہیں لعنت کرو اور وہ تمہیں لعنت کریں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول کیا ہم انہیں تلوار کے ساتھ قتل نہ کردیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تک اپنے حاکموں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے اس عمل کو ناپسند کرو اور اطاعت وفرمانبرداری سے ہاتھ مت کھینچو۔
صحیح مسلم:جلد سوم:باب : اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
ان ارشادات سے واضح ہوا کہ اطاعت صرف معروف کاموں میں ہے یعنی جو کام قرآن و صحیح حدیث سے ثابت ہو اس کو کرنا لازمی ہے اور ایسے کام کا حکم کہ جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو اس کو نہ سننا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرنا ہے یعنی کہ خلیفہ کی اطاعت قرآن و حدیث کے ساتھ مشروط ہے۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ اگر امام خلیفہ عام مسلمانوں میں نماز قائم کرنا چھوڑ دے اور یا اس سے کوئی کفر بواح:::واضح کفر:::سرزد ہوجائے اور وہ توبہ نہ کرئے اور نہ ہی خلافت کو چھوڑئے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا بھی جائز ہے بلکہ بغاوت کرنا فرض بن جاتا ہے۔
ان سب احادیث کو سامنے رکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیعت خلیفہ، امام،امیر المومین کا حق ہے یہ حق کسی اور کے پاس ہے نہ ہی کسی اور کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ حق خلیفہ نے خود اپنے لیے مخصوص نہیں کیا بلکہ یہ نبی علیہ السلام کا حکم ہے کہ خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اور یہ بھی حکم دے دیا گیا کہ اگر ایک خلیفہ کے ہوتے کوئی اور اُٹھے اور بیعت لے تو اس کو قتل کیا جائے تاکہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور یہ آپس میں متحد رہیں قرآن میں بھی اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ اجتماعیت کو قائم کیا جائے اور تفرق سے بچا جائے بعض جگہ تفرق کو مشرکین کا فعل کہا گیا اور اس سے مسلمانوں کو ڈرایا گیا کہ مشرکین کی طرح متفرق نہ ہوجانا، ان سب احکامات کے ہوتے ہوئےپھر کس دلیل و نص کے ساتھ ایسا سسٹم ایجاد کیا گیا ہے کہ جس کی وجہ سے امت میں ہزاروں خلفاء بنا لیے گئے ہیں اور جو دین ہم کو ہر جگہ اتحاد کا درس دیتا ہے وہی دین ہم کو انتشار کا درس کس طرح دے سکتا ہے؟؟؟اور اس سے تو بیعت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے،بیعت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ امت کو ایک امام و خلیفہ دیا جائے جو لوگوں کی سیاست و امارت کرئےاور جس کے ذریعہ کفار سے جہاد کیا جائے اور جس امام کو امت کا سر:::ہیڈ:::قرار دیا گیا ہے اور ایک حدیث میں پوری امت کو ایک جسم کے مانند کہا گیا ہے کہ جس کا سر خلیفہ کو قرار دیا گیا ہے جو کے جسم کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے کہ جس کے بنا جسم زندہ نہیں رہ سکتا کہ جس نے پورے جسم کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، اگر سر کو جسم سے جُدا کردیا جائے تو جسم کی موت واقع ہوجاتی ہے تو میرے بھائیو اور بہنو افسوس صد افسوس کہ ہم اس سر کے بغیر ہیں اسی لیے تو امت انتشار کا شکار ہے کہ اُمت کے پورے جسم کو مختلف بیماروں نے قابو کیا ہوا ہے،جسم کو فالج اور لقوا ہو چکا ہے، ہاتھ کہیں پڑا ہے تو پاوں کہیں، بازو کہیں پڑا ہے تو ٹانگ کہیں، الغرض پورا جسم اپنے آخری انجام کو پہنچ چکا ہے، اس کو سنبھالنے والا :::سر::: ہی نہیں ہے کہ اس جسم کا علاج کروا سکے اس کو پڑی ہوئی بیماریوں کا مناسب بندوبست کر سکے، آج امتِ محمدیہ کا یہ حشر اس لیے ہوا ہے کہ ان کے جسم کا سر یہود و نصاری نے پہلی جنگ عظیم میں اتار دیا تھا، اور پھر ان ظالموں نے اس امت کے اپنی مرضی کے مطابق ٹکرے کیے اور آج تک وہ اس کو مزید ٹکروں میں تقسیم کرتے جا رہے ہیں کہ پہلے تو امت میں صرف دین کی بیس پر فرقے بنائے گے اور جب خلافت کو ختم کردیا گیا تو پھر امت کو علاقوں،وطنوں، قوموں،برادریوں،زبان و رنگ و نسل میں بھی تقسیم کر دیا گیا ہے جو کہ امت میں مزید انتشار کا سبب بن گیا ہے، اور افسوس ایک ہم ہیں کہ پھر بھی ہمیں ہوش نہیں آرہا کہ ہم لوگوں کی جہالتوں کو سمجھیں اور حق :::قرآن و حدیث::: کو اپنا کر اپنا امام و خلیفہ قائم کریں کہ جس کی قیادت میں امت کو متحد کرنے کی کوشش کریں۔لوگوں کو سمجھائیں کہ اسلام میں ہم سب ہررنگ و نسل کے آپس میں بھائی بھائی ہیں وطن پرستی تو اسلام میں ہے ہی نہیں ہے کہ ساری زمین مسلمانوں کا وطن ہے رہ گئی قوم اور برادری تو یہ اللہ نے پہچان کے لیے بنائیں ہیں نہ کہ فخر و غرور کے لیے اور نہ ہی تفرقہ بندی کے لیے۔

بات کہاں سے چلی اور کہاں نکل گئی معذرت، تو بھائیو بیعت اصل میں صرف خلیفہ کی ہے نہ کہ کسی پیر صاحب کی اور دوسرا اس کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد قائم کرنا ہے جیسا کہ اوپر ثابت ہوچکا ہے تو اب اس بیعت کی بیس پر ہی اگر امت کو متفرق کیا جارہا ہے تو یہ اسلام کسی قیمت نہیں ہو سکتااس لیے بھائیو اصل دین:::قرآن و صحیح حدیث::: کی طرف قدم بڑھاہیں کہ جو ہمارے درمیان واحد متحد ہونے کا ذریعہ ہے ان دو چیزوں کے علاوہ امت کسی بھی تیسری چیز پر قیامت تک متحد نہیں ہوسکتی۔
اب میں نیچے کچھ احادیث پیش کر رہا ہوں ان احادیث پر سب غور و فکر کریں، جزاکم اللہ خیرا


یحیی ولید ابن جابر بسر ابوادریس سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن یمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ (اکثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی بابت دریافت کرتے رہتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر اور فتنوں کی بابت پوچھا کرتا تھا اس خیال سے کہ کہیں میں کسی شر و فتنہ میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔ ایک روز میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم جاہلیت میں گرفتار اور شر میں مبتلا تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس بھلائی (یعنی اسلام) سے سرفراز کیا کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی برائی پیش آنے والی ہے؟ فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا اس بدی و برائی کے بعد بھلائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! لیکن اس میں کدورتیں ہوں گی۔ میں نے عرض کیا وہ کدورت کیا ہو گی؟ فرمایا کدورت سے مراد وہ لوگ ہیں جو میرے طریقہ کے خلاف طریقہ اختیار کر کے اور لوگوں کو میری راہ کے خلاف راہ بتائیں گے تو ان میں دین بھی دیکھے گا اور دین کے خلاف امور بھی ہیں۔ عرض کیا کیا اس بھلائی کے بعد بھی برائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی بات مان لیں گے وہ ان کو دوزخ میں دھکیل دیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کا حال مجھ سے بیان فرمائیے فرمایا وہ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے۔ میں نے عرض کیا اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ کو کیا حکم دیتے ہیں فرمایا مسلمانوں کی جماعت:::خلافت:::کو لازم پکڑو اور ان کے امام:::خلیفہ:::کی اطاعت کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور امام بھی نہ ہو۔ (تو کیا کروں) فرمایا تو ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جا اگرچہ تجھے کسی درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑے یہاں تک کہ اسی حالت میں تجھ کو موت آ جائے۔
صحیح بخاری:جلد دوم:باب:اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان



حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر وبھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں برائی کے بارے میں اس خوف کی وجہ سے کہ وہ مجھے پہنچ جائے سوال کرتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم جاہلیت اور شر میں تھے اللہ ہمارے پاس یہ بھلائی لائے تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شر ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور اس خیر میں کچھ کدورت ہوگی میں نے عرض کیا کیسی کدورت ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری سنت کے علاوہ کو سنت سمجھیں گے اور میری ہدایت کے علاوہ کو ہدایت جان لیں گے تو ان کو پہچان لے گا اور نفرت کرے گا میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے بعد کوئی برائی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر جہنم کی طرف بلایا جائے گا جس نے ان کی دعوت کو قبول کرلیا وہ اسے جہنم میں ڈال دیں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ان کی صفت بیان فرما دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں وہ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گےمیں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر یہ مجھے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت :::خلافت:::کو اور ان کے امام:::خلیفہ:::کو لازم کرلینا میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی جماعت ہو نہ امام، آپ نے فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جانا اگرچہ تجھے موت کے آنے تک درخت کی جڑوں کو کاٹنا پڑے تو اسی حالت میں موت کے سپرد ہو جائے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:کتاب :امارت اورخلافت کا بیان :باب: فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں



حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو:::خلیفہ:::کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت:::خلافت:::سے علیحدہ ہوگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی کسی عصبیت:::تعصب:::کی بناء پر غصہ کرتے ہوئے عصبیت کی طرف بلایا یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل کردیا گیا تو وہ جاہلیت کے طور پر قتل کیا گیا اور جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک وبد سب کو قتل کیا کسی مومن کا لحاظ کیا اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا تو وہ میرے دین پر نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
یہ ایک مثال کے طور پر احایث پیش کی ہیں اس طرح کی اور بھی احادیث موجود ہیں کہ جن کو ہم جان بوجھ کر سمجھنا نہیں چاہتے یا ہمیں ان کی واقعی ہی سمجھ نہیں آتی یا ان احادیث کو ہم اہمیت نہیں دیتے کچھ تو وجہ ہے جو ہم ان کو اگنور کرتے ہیں حالانکہ کہ ان احادیث میں اصل مسئلے:::امت کا آپس میں انتشار و افتراق::: کا حل موجود ہے بس تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔